سے اس نے تجھے منع کیا ہے۔ اور یہ معرفت و مراقبہ ہی کی بدولت ممکن ہے ۔اورحضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے درج ذیل فرمان سے یہی مراد ہے۔آپ نے فرمایا: ’’ تُو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اس طرح عبادت کر کہ گویا تُو اُسے دیکھ رہا ہے پس اگر تُو اسے نہ دیکھ سکے تو وہ تجھے ضرور دیکھ رہا ہے ۔ ‘‘ اسی طرح امام ترمذی نے روایت کیا کہ سرکار مدینہ راحت قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّسےاس طر ح حیا کروجس طرح حیا کرنے کا حق ہے۔ ‘‘ حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن مسعودرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں ، ہم نے عرض کی: ’’ یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ہم حیا کرتے ہیں اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حمد کرتے ہیں ۔ ‘‘ فرمایا : ’’ یہ حیا نہیں ہے بلکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّسے حیا کا حق یہ ہے کہ سراورجو کچھ اس میں ہے اس کی حفاظت کرو، پیٹ اور جو کچھ پیٹ میں ہے اس کی حفاظت کرو، موت اور موت کے بعد گلنے سڑنے کو یاد کرو ۔ پس جس نے یہ کر لیااس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّسے حیا کرنے کا حق ادا کردیا۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَا جُنَیدبغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْھَادِیفرماتے ہیں : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے ملنے والی نعمتوں اور اپنی کوتاہیوں کی طرف نظر کرنےسےدل میں جوکیفیت پیداہوتی ہےاسے حیاکہتے ہیں ۔ ‘‘ (1)
حیاکےمعنی ہیں : ’’ عیب لگائےجانے کے خوف سےبُرے اعمال ترک کردینا۔ ‘‘ حضرتِ سیِّدُنا شَہابُ الدّین سُہروردی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عظمت و جلال کی تعظیم کے لیے روح کو جُھکانا حیا ہےاور اِسی قَبِیل سے حضرتِ سیِّدُنا اِسرافیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کی حیاہے جیسا کہ بیان ہوا کہ وہاللہ عَزَّوَجَلَّسے حیا کی وجہ سے اپنے پَروں سے خود کو چُھپائے ہوئے ہیں ۔ ‘‘ عُلَما ءِکرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں : ’’ حیاایک ایسا خُلق ہے جو بُرے کام چھوڑنےپر اُبھارتا اور حق دار کے حق میں کمی کرنے سے روکتا ہے۔ ‘‘ (2)
حیااِیمان کا رکن اَعلیٰ ہے:
شرم وحیااِیمان کا رُکن اعلیٰ ہے۔دنیا والوں سے حیادُنیاوی بُرائیوں سے روک دیتی ہے، دین والوں
________________________________
1 - عمدۃ القاری، کتاب الایمان ، باب امور الایمان، ۱ / ۲۰۲،تحت الحدیث: ۹۔
2 - مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الاداب، باب الرفق والحیاءوحسن الخلق، ۸ / ۸۰۰۔۸۰۲، تحت الحدیث: ۵۰۷۰،۵۰۷۱ ملتقطا۔