Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
351 - 662
  (62)  حکمرانوں کی اطاعت کرنا (63) لوگوں کی اِصلاح کرنااورخوارج وباغیوں سےجنگ کرنا (64) نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنا (65) نیکی کا حکم دینا اوربرائی سےمنع کرنا (66) حدودقائم کرنا  (67)  جہادکرنااوراس کے ‏لیے ہر وقت تیاررہنا (68) امانت اور مال غنیمت کا خُمس ادا کرنا (69) وعدے کے مطابق قرضہ ادا کرنا (70) پڑوسیوں کااحترام کرنا (71) معاملات میں اچھائی برتنا اورحلال روزی کمانا  (72) اچھی جگہ مال  خرچ کرنافضول خرچی اور اِسراف سے بچنا (73) سلام کا جواب دینا  (74)  چھینکنے والے کوجواب دینا  (75)  لوگوں سےنقصان کودورکرنا (76)  لہو ولعب سے بچنا (77)  راستے سے تکلیف دہ شے  ہٹانا۔ ‘‘  (1) 
حیا ایمان کا حصہ ہے:
عَلَّامَہ بَدْرُالدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ حیاکوایمان کاحصہ اس ‏لیے کہاگیاہےکہ حیا اچھے اعمال کی طرف  اُبھارتی اوربُرائیوں سے روکتی ہے۔ حیا اگرچہ فطرت  میں شامل  ہوتی ہے۔مگر بسا اوقات تکلفاً جد وجہد  سے حیا اختیار کی جاتی ہے لیکن اسےشریعت کے مطابق استعمال  کرنے کے ‏لیے جدوجہداورنیت کی حاجت  ہوتی  ہے ۔اسی ‏لیےیہ  ایمان کا حصہ ہے ۔ایمان کی شاخوں کواجمالاًذکر کرنے کے بعدحضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے خصوصی طور پر حیا  کو ذکر کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ حیا ایمان کے تمام شعبوں کی طرف بلاتی  ہے  کہ حیا دار بندہ دنیا کی رسوائی   اورآخرت کے خوف سے  اپنےآپ کوگناہوں سے بچاتا اوراَحکامِ الٰہی  بجا لاتا ہے۔ ‘‘  (2)  
حیاکی تعریف:
حیا اُن اخلاق  کا نام ہے جو بُرے کاموں سے بچنے پر اُبھاریں  اورحقدارکے حق میں کمی کرنے سے روکیں ۔  سب  سے بہترین حیا اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے حیا  کرنا ہے۔ وہ یہ ہے کہ  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تجھے وہاں نہ دیکھے  جہاں 



________________________________
1 -   عمدۃ القاری، کتاب الایمان ، باب امور الایمان، ۱‏ / ۲۰۰، تحت الحدیث:  ۹ ملتقطا۔
2 -     عمدۃ القاری، کتاب الایمان ، باب امور الایمان، ۱‏ / ۲۰۲ ، تحت الحدیث:  ۹ ملتقطا۔