کفار ِمکہ کے ایجنٹوں نے کہا: تم بدرِ صغریٰ میں بااِر ادۂ جہاد ہر گز نہ جاؤ کیونکہ اُنہوں نے تمہارے مقابلہ کے لیے بہت سازو سامان والے بے شمار لشکر جمع کررکھے ہیں ، تمہارا وہاں جانا گویا موت کے منہ میں جانا ہے ، اُن سے ڈرو اور خوف کرو، مفت کیوں جانیں گنواتے ہو؟ تو اِس کلام کو سن کر اُن مقبولوں کے دلوں میں بجائے خوف و ڈر پیدا ہونے کے اور زیادہ کمالِ ایمان پیدا ہوگیا، اُن کا ایمان و توکل بڑھ گیا، بے ساختہ بول اٹھے کہ کوئی مضائقہ نہیں ، ہمیں کفار کی یلغار سے کوئی ڈر نہیں ، اُن کے مقابلہ میں ہمیں اللہ کافی و افی ہے، ہمارا تو وہی کارساز ہے، جس کا کارساز ایسا شاندار ہو اُسے کیا پرواہ۔ چنانچہ وہ حضرات بے دھڑک روانہ ہوگئے۔ وہاں پہنچے تو میدان خالی پایا، مزے سے وہاں رہے، بدر صغریٰ کے پاس ہی میلے میں تجارتیں کیں ، خوب کمائی کی اور لوٹے تو اِس طرح کہ اللہ تعالٰیکی نعمت یعنی تجارتی نفع اور اللہ تعالٰیکے فضل یعنی اُخروی ثواب سے اُن کے دامن بھرے ہوئے تھے۔ اُنہیں اِس سارے سفر میں تکلیف پہنچنا تو کیا معنیٰ کسی معمولی خراش نے چھوا بھی نہیں اور مزید مہربانی یہ ہوئی کہ یہ حضرات اِس سفر کے سارے حالات میں رضائے الٰہی کے تابع رہے کہ اُن کے ہر حال ، ہر جنبش سے ربّ تعالٰی راضی ہوا، اللہ تعالٰیبڑے ہی فضل و کرم والا ہے، اے جماعت صحابہ کی مقبول جماعت! یہ شیطان ہے جو تمہیں اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے، یا مدینہ منورہ میں جو شیطان کے دوست یعنی منافقین ہیں اُنہیں ڈراتا ہے، تم اُ ن سے کیوں ڈرو؟ خیال رکھنا کہ اِن شیاطین اور اِن کے دوستوں سے کبھی نہ ڈرنا، ہمیشہ مجھ سے ہی ڈرنا، اگر تم سچے مسلمان ہو تو اِس نصیحت پر کار بند رہنا، ایمان کا تقاضا ہے کہ مؤمن کے دل میں اللہ تعالٰیکا خوف ہو ، غیروں کا خوف نہ ہو۔ ‘‘ (1)
بڑی مصیبت کا وظیفہ:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جب بھی کوئی بڑی مصیبت آجائے تو یہ وظیفہ ’’ حَسْبُنَااللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْل ‘‘ پڑھ لیجئے، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ربّ تعالی کی مددونصرت اور اَمان حاصل ہوگی۔چنانچہ تفسیرروح المعانی میں ہے کہ حضرت سَیِّدُنَاابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہےکہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ
________________________________
1 - تفسیرنعیمی، پ۴، آل عمران، تحت الآیۃ: ۱۷۳، ۴ / ۳۵۲۔