حدیث نمبر:125
اِیمان کی شاخیں
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:اَلْاِیْمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُوْنَ اَوْبِضْعٌ وَ سِتُّوْنَ شُعْبَۃً، فَاَفْضَلُہَا قَوْلُ لَا اِلَہَ اِلَّااللّٰہُ، وَاَدْنَاہَااِمَاطَۃُالْاَذَی عَنِ الطَّرِیْقِ، وَالْحَیَاءُشُعْبَۃٌمِنَ الْاِیْمَانِ. (1)
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضورنبّی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ ایمان کی ستّرسے کچھ زائد شاخیں ہیں یا ایمان کی ساٹھ سے کچھ زائد شاخیں ہیں ، اوراُن میں سب سے افضل ’’ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ ‘‘ کہنا ہے اور ان میں سب سے کم تر راستے سے تکلیف دہ چیز دُور کرنا ہے۔اور حیا (بھی) اِیمان کی ایک شاخ ہے۔ ‘‘
ایمان کی ستّر (70) شاخیں :
حدیثِ مذکور میں فرمایا گیا کہ ایمان کی70 یا اس سے کچھ زائد شاخیں ہیں ۔عَلَّامَہ بَدْرُالدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی نے77شاخوں کو بالتفصیل ذکر فرمایا ہے، آپ بھی ملاحظہ کیجئے: (1) اللہعَزَّ وَجَلَّپر، اس کی ذات وصفات اوراس کی وحدانیت پر ایمان لاناکہ اس کی مثل کوئی نہیں ہے۔ (2) اللہعَزَّ وَجَلَّکےعلاوہ سب کوحادِث ماننا (3) اس کےفرشتوں پرایمان لانا (4) اس کی کتابوں پر ایمان لانا (5) اس کے رسولوں پر ایمان لانا (6) اچھی اور بُری تقدیر پر ایمان لانا (7) قیامت، قبر کے سوال وعذاب ، میزان عدل قائم ہونے اور پلِ صراط سے گزرنےپرایمان لانا (8) اللہ عَزَّ وَجَلَّکےجنت کے وعدےاوراس میں ہمیشہ رہنے پریقین رکھنا (9) دوزخ کی وعیدوعذاب اوراس کی ہمیشگی پرایمان لانا (10) اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کرنا (11) رضائے الٰہی کےلیےمحبت وعداوت رکھنااسی طرح تمام مہاجرین وانصارصحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاناور آلِ رسول صَلَّی
________________________________
1 - مسلم، کتاب الایمان، باب بیان عدد شعب الایمان ۔۔۔الخ، ص۳۹، حدیث: ۳۵۔