تحائف سے متعلق 4فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:
(1) ’’ ایک دوسرے کو تحفہ دوکیونکہ یہ سینہ کے کینہ کودورکرتاہے۔ ‘‘ (1) (2) ’’ ایک دوسرے کو تحفہ دو اس سے محبت پیداہوگی۔ ‘‘ (2) (3) ’’ ایک دوسرے سے مصافحہ کرو اس سے کینہ ختم ہوتا ہے اور ایک دوسرے کو ہدیہ دو اس سے محبت بڑھتی ہے اوربخل ختم ہوتاہے۔ ‘‘ (3) (4) ’’ اگرمجھے بکری کےایک پائے کا ہدیہ دیا جائے تو میں اسے قبول کرلوں گااور اگر مجھے بکری کے پائے کی دعوت دی جائے تو میں اس دعوت میں جاؤں گا۔ ‘‘ (4)
مدنی گلدستہ
’’ بقیع ‘‘ کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) کم قیمت والی شے کا تحفہ دیناتحفہ نہ دینےسےبہترہے۔
(2) تحفہ دینے سے محبت بڑھتی، بغض وکینہ دور ہوتااور مالی معاونت بھی ہوتی ہے۔
(3) احادیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممسکینوں کے ہدیۂ ثواب کو بھی رد نہیں فرماتے ۔
(4) تحفہ لینے کے آداب میں سے ہے کہ تحفہ ملنے پرخوشی ومَسَرَّت کا اِظہارکرے اگرچہ تحفہ کم قیمت ہو نیزتحفہ دینےوالےکاشکریہ بھی اداکرے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنتوں خصوصاً تحفہ دینے کی سنتوں اور آداب پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
________________________________
1 - ترمذی،کتاب الولاءو الھبۃ، باب فی حث النبی علی التھادی،۴ / ۴۹، حدیث: ۲۱۳۷۔
2 - الادب المفرد، باب قبول الھدیۃ،ص۱۶۸، تحت الحدیث: ۶۰۷۔
3 - موطاامام مالک ، کتاب حسن الخلق، باب ماجاء فی المھاجرۃ ،۲ / ۴۰۷، حدیث: ۱۷۳۱۔
4 - ترمذی،کتاب الاحکام، باب ماجاءفی قبول الھدیۃ،۳ / ۶۶،حدیث: ۱۳۴۳۔