Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
347 - 662
غریبوں کے ‏لیے بڑی ہمت افزاہے کیونکہ اس سے معلوم ہورہاہے کہ خود نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّممسکینوں کے معمولی ہدیہ ثواب وغیرہ کو بھی رَد نہیں فرماتے۔ ‘‘  (1) 
تحفہ دینے والے کے آداب:
حُجَّۃُ الْاِسلامحضرتِ سَیِّدُنا امام ابو حامد محمد بن محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی فرماتے ہیں :  ’’ جسے تحفہ دے رہاہے اس کی فضیلت کومد ِنظررکھے،  وہ تحفہ قبول کرلے توخوشی ومسرت کااظہار کرے۔ اس  سے ملاقات ہو تو  اس کا  شکریہ اداکرے،  اور اسے کلی اختیارات دے اگرچہ تحفہ بڑا ہو۔ ‘‘  (2) 
تحفہ لینے والے کے آداب:
 ’’ تحفہ ملنے پرخوشی کا اِظہارکرے اگرچہ کم قیمت ہو،  تحفہ بھیجنے والے کی غیرموجودگی میں اس کے ‏ لیے دعائے خیر کرے۔ملاقات ہو تو خَندہ پیشانی  کا مظاہرہ کرے۔ جب موقع ملے تو  اسے بھی  تحفہ دے۔ حسب موقع  اس کی جائز تعریف کرے۔دوبارہ تحفہ وغیرہ  لینے کی  حرص وطمع نہ کرے۔ ‘‘  (3) 
تحفہ دینےکی حکمتیں :
 (1)  تحفہ دینے سے محبت بڑھتی اور بغض وکینہ دُور ہوتاہے۔ (2)  تحفہ دینے میں ایک دوسرے کی مالی مُعاوَنت ہے۔ (3) جب تحفہ معمولی ہوتو یہ محبت پر زیادہ دلالت کرتا اور باہم تَکَلُّف و تنگی کو دور کرتا ہے۔  (4) قیمتی تحائف کاتبادلہ ہر وقت ممکن بھی نہیں جبکہ معمولی تحائف  کا باہم تبادلہ قیمتی تحفہ دینے کی طرح ہی ہے۔ ‘‘   (4) 
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد



________________________________
1 -   مرآۃالمناجیح،۳‏ / ۹۵۔
2 -   مجموعۃ رسائل امام غزالی ،الادب فی الدین ،ص ۴۱۰ ۔
3 -   مجموعۃ رسائل امام غزالی ،الادب فی الدین ،ص ۴۱۰ ۔
4 -   عمدۃ القاری،کتاب الھبۃ، باب الھبۃ و فضلھا۔۔۔ الخ،۹‏ / ۳۷۹، تحت الحدیث: ۲۵۶۶۔