حدیث نمبر:124
کسی شےکوحقیرنہ جانو
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:یَا نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ!لاَ تَحْقِرَنَّ جَارَۃٌ لِجَارَتِہَا وَلَوْ فِرْسِنَ شَاۃٍ. (1)
قَالَ الْجَوْھَرِیُّ:اَلْفِرْسِنُ مِنَ الْبَعِیْرِ:کَا الْحَافِرِ مِنَ الدَّابَّۃِ، قَالَ:وَرُبَّمَا اُسْتُعِیْرَ فِیْ الشَّاۃِ.
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب دانائے غیوب مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوْب صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’ اے مسلمان عورتو!کوئی عورت اپنی پڑوسن کی بھیجی ہوئی چیز کو حقیر نہ جانے ، اگرچہ وہ بکری کا کُھر ہی کیوں نہ ہو۔ ‘‘
علّامہ جوہری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینےفرمایا: ’’ فِرْسِناُونٹ کے کُھرکوکہتے ہیں جیسے حَافِردوسرے جانوروں کے کھُر کو کہا جاتا ہے ۔البتہ بسا اوقات بطورِ استعارہ بکری کے کُھر کوبھی فِرسِنکہا جاتا ہے ۔
بکری کے کُھرسےکیامرادہے؟
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ بکری کے کُھر سے حقیقتاً بکری کا کُھر مراد نہیں کیونکہ عام طور پر بکری کا کُھرایک دوسرے کو تحفے میں نہیں دیا جاتا بلکہ اس سے معمولی سی شے مراد ہے۔ مقصودِحدیث یہ ہے کہ پڑوسی کو ہدیہ دینے کے لیے اگر عورت کے پاس معمولی شے کے علاوہ کچھ نہ ہو تو ہدیہ سے نہ رُکے بلکہ حسبِ حال جو میسر ہو دے دیا کرے کیونکہ ہدیہ اپنے پاس موجود شے کے اعتبار سے دیا جاتا ہے اور کسی شے کاپاس ہونا یہ اس شے کے نہ ہونے سے بہتر ہے۔حدیث کی ایک توجیہہ یہ ہےکہ اگر تمہیں کم قیمت معمولی سی شے بھی تحفے میں دی جائے تو اسے حقیر سمجھ کر قبول کرنے سے انکار نہ کرو۔ ‘‘ (2)
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ چونکہ چیزوں میں عیب نکالنے کی عادت زیادہ عورتوں میں ہوتی ہے اس لیے انہی سے خطاب کیاگیا۔ یہ حدیث ہم
________________________________
1 - بخاری، کتاب الادب،باب لاتحقرن جارۃ لجارتھا،۴ / ۱۰۴، حدیث: ۶۰۱۷۔
2 - عمدۃ القاری، کتاب الھبۃ، باب الھبۃ و فضلھا۔۔۔ الخ،۹ / ۳۷۸، تحت الحدیث: ۲۵۶۶۔