Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
344 - 662
جنت کی اَبدی نعمتیں :
 زمانے کے مشہور  ولی حضرت سَیِّدُنَا والان بن عیسیٰ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :ایک مرتبہ میں  تہجد کے ‏لیے مسجد میں گیا۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے جتنی تو فیق دی اتنی دیر میں نے نماز پڑھی ،  پھر   میں سو گیا۔میں نے خواب دیکھا کہ نہایت حسین وجمیل اور نورانی چہروں  والے بزرگوں کا ایک قافلہ  مسجد  میں آیا ۔میں سمجھ    گیا  کہ یہ انسان نہیں بلکہ کوئی اور مخلوق ہیں ۔ ان کے ہاتھوں میں تھال تھے  جن میں عمدہ آٹے کی برف کی طرح سفیدروٹیاں  تھیں ، ہر رو ٹی پر انگوروں کی طر ح چھوٹے چھوٹے قیمتی موتی تھے ۔ انہوں نے مجھ سے کہا:   ’’ یہ رو ٹیاں کھالو۔ ‘‘  میں نے کہا:  ’’ میرا تو رو زہ ہے۔ ‘‘  کہنے لگے: ’’  مسجد جس کا گھر ہے اس نے حکم دیا ہے کہ تم یہ کھانا کھالو۔ ‘‘ پس میں کھا نے لگا۔کھانے کے بعد میں نے وہ موتی اٹھانا چاہے تو  کہا گیا کہ: ’’ یہ چھوڑ دو، ہم تمہارے ‏لیے اِن کے بدلے ایسے درخت لگائیں گے جن کے پھل اِن موتیوں سے بہتر ہوں گے ۔  ‘‘ 
    میں نے کہا : ’’ وہ درخت کہاں  ہوں گے؟  ‘‘ جواب ملا : ’’ ایسے گھر میں جو کبھی بر باد نہ ہوگااور وہاں ہمیشہ پھل اُگتے رہیں گے،  نہ کبھی ختم ہو ں گے  نہ خراب ۔ وہ ایسی سلطنت ہے جو کبھی منقطع نہ ہوگی۔ وہاں ایسے کپڑے ہوں گے جو کبھی پرانے نہ ہوں گے۔اس گھر  (یعنی جنت ) میں خوشی ہی خوشی ہے،  میٹھے پانی کے چشمے ہیں ، سکون وآرام ہے اور ایسی پاکبازبیویاں ہیں جو فرمانبر دار،  ہمیشہ خوش رہنے والی اوردل کو بھانے والی ہیں ۔وہ نہ تو کبھی ناراض ہوں گی اور نہ ہی ناراض کریں گی۔لہٰذا دنیا میں جتنا ہوسکے نیک اَعمال کی کثرت کرو۔ یہ دنیا تو نیند کی مانند ہے کہ آنکھ کھلتے ہی رخصت ہوجائے گی ۔ لہٰذا اس میں جتنا ہوسکے عمل کرواور جلدی سے جنت کی طر ف آجاؤ جہاں دائمی نعمتیں ہیں ۔ ‘‘  پھر میری آنکھ کھل گئی لیکن ابھی تک میرے ذہن میں وہ خواب سمایا ہوا تھا اور میں جلد اَز جلد اس گھر  (یعنی جنت)  میں پہنچنا چاہتا تھاجس کا مجھ سے وعدہ کیا گیا۔راوی کہتے ہیں کہ اس  واقعے کے تقریباً پندرہ دن بعد آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا انتقال ہوگیا ۔ انتقال  کے بعد میں نے اسی رات اُنہیں خواب میں دیکھا  تو  پوچھا :  ’’ آپ کے ‏لیےکیسے درخت لگائے گئے ہیں ؟  ‘‘ فرمایا :  ’’ وہ تو ایسے ہیں کہ جن کی تعریف بیان نہیں کی جاسکتی۔خدا عَزَّ  وَجَلَّکی قسم! جب کوئی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا مہمان بنتا ہے تو وہ پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ اُسےایسی ایسی نعمتیں عطا فرماتا ہے جن کے اَوصاف بیان نہیں ہوسکتے،  اس کے کرم کی کوئی انتہا