کے ساتھ خاص ہے کہ جو عبادت کی غرض سے مسجد میں آئے۔ ‘‘ (1)
مرآۃ المناجیح میں ہے: ’’ صبح شام سے مراد ہمیشگی ہے یعنی جو ہمیشہ نماز کے لیے مسجد جانے کا عادی ہوگااسے ہمیشہ جنتی رزق ملے گا۔نُزُلٌاس کھانے کو کہتے ہیں جو مہمان کی خاطر پکایا جائے چونکہ وہ پُر تکلف ہوتا ہے اور میزبان کی شان کے لائق، اس لیے جنتی کھانے کو نُزُلٌفرمایا گیا، ورنہ جنتی لوگ وہاں مہمان نہ ہوں گے، مالک ہوں گے۔ ‘‘ (2)
مسجد سے متعلق 4فرامین مصطفےٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:
(1) ’’ مسجدہر پرہیز گا ر کا گھر ہے اور جس کا گھر مسجد ہو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے اپنی رحمت ، رضا اور پل صِرا ط سے باحفاظت گزار کراپنی رضا والے گھر جنت کی ضمانت دیتا ہے۔ ‘‘ (3) (2) ’’ جب تم کسی ایسے شخص کو دیکھو جو مسجد کی خدمت کرتا اور اسے آباد کرتا ہے تو اس کے ایمان کی گواہی دو کیونکہاللہ عَزَّ وَجَلَّفرماتا ہے: ( اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ ) (پ ۱۰، التوبۃ: ۱۸) ترجمہ ٔ کنزالایمان: ’’ اللہ کی مسجدیں وہی آبا د کرتے ہیں جو اللہ اور قیامت پر ایما ن لاتے۔ ‘‘ (4) (3) ’’ جب کوئی بندہ ذکر ونَماز کے لیے مسجد کو ٹھکانا بنالیتاہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے ایسے خوش ہوتا ہے جیسے لوگ اپنے ہاں اپنے ہی گمشدہ شخص کی آمد پر خوش ہوتے ہیں ۔ ‘‘ (5) (4) ’’ رات کی تاریکیوں میں مسجد کی طرف آمدورفت رکھنے والے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت میں غوطے لگاتے ہیں ۔ ‘‘ (6)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
________________________________
1 - فتح الباری، کتاب الاذان ، باب فضل من غدا الی المسجد، ۳ / ۱۲۹، تحت الحدیث: ۶۶۲۔
2 - مرآۃالمناجیح،۱ / ۴۳۳۔
3 - مجمع الزوائد ، کتا ب الصلوۃ ، با ب لزوم المسجد، ۲ / ۱۳۴، تحت الحدیث: ۲۰۲۶۔
4 - ترمذی ، کتا ب الایمان ، با ب ماجا ء فی حرمۃ الصلوۃ،۴ / ۲۸۰، تحت الحدیث: ۲۶۲۶ ۔
5 - ابن ماجۃ، کتاب المساجد والجماعات،با ب لزوم المساجد،۱ / ۴۳۸، تحت الحدیث: ۸۰۰ ۔
6 - ابن ماجۃ، کتا ب المساجد والجماعات ، با ب المشی الی الصلوۃ،۱ / ۴۲۹، تحت الحدیث: ۷۷۹ ۔