Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
342 - 662
(1)	انسان کے اپنے جسم میں اس پر اتنے اِنعاماتِ اِلٰہیہ ہیں کہ  جن کا شکر  ادا نہیں کیا جا سکتا۔   سر سے لے کر پاؤں تک  ہر آن ، ہر گھڑی  وہ اپنے  ربّ    کی نعمتوں کے  حِصار میں  رہتا  ہے ۔  
(2)	اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا ہم پر یہ بہت کرم واِحسان اور اس کا فضلِ عظیم ہے  کہ  وہ   بظاہر چھوٹے چھوٹے اُمور پر بھی صدقے کا عظیم اجر وثواب  عطا فرماتا ہے۔
(3)	نماز، طواف،  بیمار پرسی،  جنازہ میں شرکت،  طلبِ علم دین،  مسلمانوں کی خیر خواہی ، الغرض ہر نیکی کی طرف اٹھنے والا قدم صدقہ ہے۔
اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے اپنا شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر: 123  				
صُبح و شام جنت کی مِہْمَانی
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:مَنْ غَدَا اِلَی الْمَسْجِدِ اَوْ رَاحَ اَعَدَّ اللّٰہُ لَہُ فِیْ الْجَنَّۃِ نُزُلًا کُلَّمَا غَدَا اَوْ رَاحَ. (1) 
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ حضورنبی اکرم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمسے روایت کرتے ہیں کہ  ’’ جو شخص صبح یا شام کے وقت مسجد گیا تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّجنت میں اس کے ‏لیے ہر صبح وشام مہمانی تیار فرمائےگا۔ ‘‘ 
مسجدمیں بغرض عبادت آنے کی فضیلت:
عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں : ’’ حدیث مذکور کے ظاہر سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ کوئی شخص کسی بھی وقت مسجد آئےتو مطلقاًاسے فضیلت حاصل ہوگی لیکن یہ فضیلت اسی 



________________________________
1 -   مسلم،کتاب المساجد و مواضع الصلوۃ ، باب المشی الی الصلوۃ۔۔۔ الخ ، ص۳۳۶، حدیث: ۶۶۹۔