Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
341 - 662
 ذکر اس لیے فرمایا کہ سورج تو ہر شخص پر چمکتا ہے تو شکریہ بھی ہر شخص پر ہے۔تہذیبِ اَخلاق،  تدبیرِ منزل،  سیاستِ مدنی،  لوگوں سے اچھے برتاؤ صدقہ ہیں بشرطیکہ رضائے الٰہی کے ‏لیے ہوں ۔ہر معمولی سے معمولی کام جب ادائے سنت کی نیت سے کیا جائے گا تو وہ بڑا ہوجائے گا،  کیونکہ منسوب اگر چہ چھوٹا ہے مگر منسوب الیہ جن کی طرف نسبت ہے (یعنی حضور نبی کریم رؤف رحیم)  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم وہ تو بڑے ہیں ۔  (نماز کے ‏لیے جانے والا ہر قدم صدقہ ہے)  نماز کا ذکر مثالاً ہے ورنہ طواف،  بیمار پرسی،  جنازہ میں شرکت،  علم دین کی طلب غرضکہ ہر نیکی کے ‏لیے قدم ڈالنا صدقہ ہے۔ رستہ سے کانٹا،  ہڈی،  اینٹ،  پتھر،  گندگی غرض جس سے کسی مسلمان راہ گیر کو تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو اس کو ہٹا دینا بھی نیکی ہے جس پر صدقہ کا ثواب اور جوڑ کا شکریہ ہے۔ ‘‘  (1) 
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حُسْنِ نیت اوراِخلاص کے ساتھ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رضا کے‏لیےجوبھی نیک عمل کیاجائے وہ عبادت ہے ان میں سے بعض فرض وواجب ہیں جن کوادا کرناانسان پر لازم ہے جیسے نماز،  روزہ اور زکوٰۃوغیرہ کہ ان کی ادائیگی پر بندے کواجروثواب سے نوازاجاتاہےاور ان کے ترک کرنے پر عذاب وعتاب کی وعیدہے۔اور بعض عبادتیں نفل ومستحب  ہیں کہ ان کی ادائیگی پر  ثواب ہے  لیکن ان کے ترک پر عذاب نہیں ۔جیساکہ دومسلمانوں کے درمیان فیصلہ کرنا،  کسی کوسواری پر سوار کرنا، اچھی بات کہنا اور مسجد کی طرف قدم اٹھانا وغیرہ۔ان تمام کے ذریعہ  ربّ عَزَّوَجَلَّکی  خوشنودی حاصل  کی جاسکتی ہے۔لہٰذا عقل مند کو  چاہیے کہ فرائض وواجبات کے ساتھ ساتھ  نفلی  عبادات  بھی بجالائے۔
مدنی گلدستہ
 ’’ نماز ‘‘ کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور  
 اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)	بظاہرمعمولی سےمعمولی کام بھی  جب اَدائے سنت کی نیت سے کیا جائے گا تو اس پر اَجر دیاجاتاہے۔



________________________________
1 -   مرآۃالمناجیح،۳‏ / ۹۷ ملتقطا۔