Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
340 - 662
کے وجود کی اصل ہیں اور ان سے منافع حاصل ہوتے ہیں کیونکہ انہیں کے ذریعے انسان حرکت کرتا ہے ۔ یہ انسان پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بہت عظیم نعمتیں ہیں ۔ پس جسے نعمت ملے  اس پر لازم ہے کہ ہر  ہر نعمت کا شکرادا کرےاور صدقہ دے۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے اپنے بندوں پر لطف و کرم  فرمایا  کہ لوگوں کے درمیان عدل کرنے کو صدقہ قرار دیا۔ ‘‘  (1) 
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ علماءکرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں : ’’ انسان پر صدقہ کرنا واجب یا لازم نہیں بلکہ  مستحب ہے اور یہ فرمان عالیِ  ترغیب کے ‏لیے ہے۔ ‘‘  (2) 
 روزانہ 360 نفلی نیکیاں  ضرور کریں :
مرآۃ المناجیح میں ہے: ’’  (انسان کے ہرجوڑ کے عوض  اس پر صدقہ ہے ) انسان کی اس لیے قید لگائی تاکہ اس سے فرشتے اور جنات  نکل جائیں کہ نہ ان کے جسموں میں اتنے جوڑ ہیں نہ ان کے یہ احکام۔ ہمارے یہ جوڑ،  انگلی کے پوروں سے لے کر پاؤں کے ناخنوں تک ہیں اگر ان میں سے ایک جوڑ خراب ہوجائے تو زندگی دشوار ہوجائے۔ قدرت نے ہڈی کو ہڈی میں اس  طرح پیوست کیا ہے کہ کواڑ کی چول کی طرح ہڈی گھومتی،  ہلتی ہے اس کے باوجود نہ گھستی ہے نہ خراب ہوتی ہے۔سُلَامٰیسین کے پیش سے ہے،  جس کے لغوی معنی ہیں :عضو ،  ہڈی اور جوڑ۔ یہاں تیسرے معنی مراد ہیں ۔انسان کے بدن میں 360جوڑ ہیں ۔اگر چہ ہمارا ہر رونگٹا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نعمت ہے لیکن ہر جوڑ اس کی بے شمار نعمتوں کا مَظْہَر ہے۔ اس ‏لیے خصوصیت سے اس کا شکریہ ضروری ہوا۔ صدقہ سے مراد نیک عمل ہے جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر شخص پر اَخلاقاً دیانۃً لازم ہے کہ روزانہ ہر جوڑ کے عوض کم از کم ایک نفل نیکی کیا کرے۔ اس حساب سے روزانہ تین سو ساٹھ360 نیکیاں کرنی چاہیئں تاکہ ا س دن جوڑوں کا شکریہ ادا ہو۔ سورج چمکنے کا



________________________________
1 -   عمدۃ القاری، کتاب الصلح، باب فضل الاصلاح بین الناس والعدل بینھم، ۹‏ / ۶۰۲، تحت الحدیث: ۲۷۰۷۔
2 -   شرح مسلم للنووی، کتاب الزکاۃ ، باب بیان ان اسم الصدقۃیقع علی کل نوع ، ۴‏ / ۹۵، الجزء  السابع۔