نمرودمیں ڈالا جانے لگا تو آپ کے پاس ’’ ہوا ‘‘ کے فرشتے نے حاضر ہو کر عرض کی : ’’ اگر آپ چاہیں تومیں آگ کو ہوا میں اُڑا دوں ۔ ‘‘ پھر پانی کے فرشتے نے عرض کی: ’’ اگر آپ چاہیں تو میں یہ آگ بجھا دوں ۔ ‘‘ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا: ’’ مجھے تمہاری اِس خدمت کی ضرورت نہیں۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے کافی ہے اور وہ کیا ہی اچھا کارسازہے۔ ‘‘ فرشتے بڑھے اور انہوں نے اُس مِنْجَنِیْق کو پکڑ لیا (جس پر ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کو مقید کیا گیا) تھا ۔ چنانچہ کفار مِنْجَنِیْق کو نہ اٹھا سکے ۔ ابلیس لعین نے اُن سے کہا: ’’ اگر اِسے اٹھانا چاہتے ہو تو ننگے سروں والی دس عورتیں مِنْجَنِیْق کے قریب لے آؤ ۔چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا تو فرشتے وہاں سے چلے گئے۔پھرجب سَیِّدُنَاابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کو آگ میں ڈالا گیا تو آپ نے کہا:”لَااِلٰہَ اِلَّااَنْتَ سُبْحَانَکَ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ لَکَ الْحَمْدُ وَلَکَ الْمُلْکُ لَاشَرِیْکَ لَکَ“ (یعنی اے ربُّ العالمین تیرے سوا کوئی معبود نہیں ، تو پاک ہے، تمام تعریفیں تیری ہی لیے ہیں ، اور تیرے ہی لیے بادشاہی ہے، تیرا کوئی شریک نہیں ۔) اتنے میں جبریل عَلَیْہِ السَّلَامنے حاضر ہوکر عرض کی: ’’ کوئی حاجت ہو تو حکم فرمائیے۔ ‘‘ سَیِّدُنَا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا: ’’ مجھے تم سے کوئی حاجت نہیں ۔ ‘‘ جبریل امین نے عرض کی: ’’ اچھا جس سے حاجت ہے اس سے تو عرض کیجئے۔ ‘‘ فرمایا: ’’ وہ میری حاجت کو خوب جانتا ہے۔ ‘‘ پس اللہ عَزَّ وَجَلَّنے آگ کو حکم فرمایا:
قُلْنَا یٰنَارُ كُوْنِیْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَۙ (۶۹) (پ۱۷، الانبیاء: ۶۹) ترجمہ ٔ کنزالایمان: اے آگ ہوجا ٹھنڈی اور سلامتی ابراہیم پر۔
پس اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا حکم ملتے ہی آگ کی جلانے کی تاثیر اور گرمی بالکل ختم ہوگئی ، وہ ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوگئی اور اس میں صرف روشنی اور چمک باقی رہ گئی۔ ‘‘ (1)
صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا یقین وتوکل:
مُفَسِّرِشہیر، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانتفسیر نعیمی میں فرماتے ہیں : ’’ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ایسے شاندار مؤمن ہیں اور ایسی آن والے متوکل ہیں کہ اُن سے
________________________________
1 - تفسیر روح البیان، پ۱۷،الانبیاء،تحت الآیۃ: ۶۹،۵ / ۴۹۸ ملخصا۔