Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
339 - 662
 عَنِ الطَّرِيۡقِ صَدَقَةٌ.  (1) 
رَوَاہُ مُسْلِمٌ اَیْضًامِنْ رِوَایَۃِ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہَا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ  وَسَلَّمَ  اِنَّهُ خُلِقَ كُلُّ اِنْسَانٍ مِنْ بَنِي آدَمَ عَلَى سِتِّيۡنَ وَثَلَاثِ مِائَةِ مَفْصِلٍ فَمَنْ كَبَّرَ  اللَّهَ وَحَمِدَ اللَّهَ وَهَلَّلَ اللَّهَ وَسَبَّحَ اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ اللَّهَ وَعَزَلَ حَجَرًا عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ اَوْشَوْكَةً اَوْ عَظْمًاعَنْ طَرِيقِ النَّاسِ اَوْاَمَرَ بِمَعْرُوۡفٍ اَوْ نَهَى عَنْ مُنْكَرٍ عَدَدَ  السِّتِّيۡنَ وَالثَّلَاثِ مِائَةٍ ،  فَاِنَّهُ يُمْسِي يَوْمَئِذٍ وَقَدْ زَحْزَحَ نَفْسَهُ عَنِ النَّارِ. (2) 
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ انسان کے ہرجوڑ کے عوض ہر دن  جس میں سورج چمکے  اس پر  صدقہ ہے،  دو شخصوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا صدقہ ہے، کسی کو اس کی سواری پر سوار ہونے میں مدد کرنا یا اس کا سامان اٹھا کرسواری پررکھ دینا صدقہ ہے، اچھی بات کہنا صدقہ ہے، نماز کے ‏لیے جانے والا ہر قدم صدقہ ہے،  راستے سے تکلیف دہ چیز  ہٹا دینا صدقہ ہے۔ ‘‘ 
امام مسلم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اس حدیث پاک کواُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی روایت سے بھی بیان کیا ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:  ’’ بنی آدم کو تین سو ساٹھ360 ہڈیوں پر بنایا گیا۔پس جس نے اللہ اکبر کہا ،  یا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی حمد بیان کی ، یا لَااِلٰہَ اِلَّا اللہ کہا، یا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی پاکی بیان کی، یا اِسْتِغْفَارپڑھا، یا راستے سے پتھر ہٹایا، یاکسی کانٹے یا ہڈی کو راستے سے ہٹایا، یا نیکی کی دعوت دی یا بُرائی سے منع کیااور یہ تعدادتین سو ساٹھ تک پہنچ گئی تو اس دن ایسا ہے کہ اس نے اپنے آپ کو دوزخ سے بچالیا۔ ‘‘ 
ہر نعمت کے بدلے  شکر :
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ حدیث کا معنی یہ ہے کہ انسان کے جوڑ اس 



________________________________
1 -   مسلم، کتاب الزکاۃ ، باب بیان ان اسم الصدقۃیقع۔۔۔الخ ،ص ۵۰۴، حدیث:  ۱۰۰۹۔
2 -   مسلم، کتاب الزکاۃ ، باب بیان ان اسم الصدقۃیقع۔۔۔الخ ،ص ۵۰۳، حدیث:    ۱۰۰۷۔