Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
338 - 662
مدنی گلدستہ
 ’’ حبیب ‘‘ کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور 
اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)	مسلمانوں کا آپس میں خندہ پیشانی سے ملنا شریعت کومحبوب ہے، اس پر اَجر دیا جاتا  ہے اور یہ آپس  میں  اُنسیت، محبت اور اُخوَّت کا پیش خیمہ ہے۔ 
(2)	کسی بھی نیکی کو چھوٹا سمجھ کر نہیں چھوڑنا چاہیے کہ ہوسکتا ہے وہ نیکی رضائے الٰہی کا سبب  بن جائے اور کل بروزِ قیامت اس کی وجہ سے مغفرت کا پروانہ جاری ہوجائے۔ 
(3)	 ہر چھوٹے سے چھوٹے گناہ سے بھی  بچنا چاہیےکہ   ہوسکتا ہے وہی  چھوٹاگناہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ناراضی کا سبب بن جائے اور کل بروزِ قیامت اسی پر پکڑ ہوجائے۔
(4)	 رضائے الٰہی کے طلب گار  نیکیوں کے ثواب   سے زیادہ رضائے الٰہی کو پیش نظر رکھتے ہیں  وہ کسی بھی نیکی کو چھوٹا سمجھ کر نہیں چھوڑتے ۔
اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے محبوب حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے طفیل اَعمالِ صالحہ بجالانےاور گناہوں سے بچنےکی توفیق عطافرمائے۔ 
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر :122	        
انسان کے تین سو ساٹھ360 جوڑ
عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوۡلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ سُلَامَى مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ كُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ فِيۡهِ الشَّمْسُ، تَعْدِلُ بَيْنَ الِاثْنَيْنِ صَدَقَةٌ وَتُعِيۡنُ الرَّجُلَ فِي دَابَّتِهِ فَتَحْمِلُهُ عَلَيْهَا اَوْ تَرْفَعُ لَهُ عَلَيْهَامَتَاعَهُ صَدَقَةٌ، وَالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ وَبِكُلِّ خَطْوَةٍ تَمْشِيۡهَا اِلَى الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ وَتُمِيۡطُ الْاَذَى