Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
337 - 662
 الْعَالِیَہفرماتے ہیں : ’’ بیان کردہ حدیثِ مبارکہ میں مُسکر ا کر ملنے، نیکی کی دعوت دینے اور بُرائی سے منع کرنے کو صَدَقہ کہا گیا۔سُبْحٰنَ اللہ ! مُسکرا کر ملنے کی تو کیا بات ہے! مسکر اکرملنا، مسکرا کر کسی کو سمجھانا عُمُومًا نیکی کی دعوت کے مدنی کام کو نہایت سَہل و آسان بنا دیتا اور حیرت انگیز نتائج  کا سبب بنتا ہے۔جی ہاں !آپ کی معمولی سی مُسکراہٹ کسی کا دل جیت کر اُس کی گناہوں بھری زندَگی میں مدنی انقلاب برپا کر سکتی ہے اور ملتے وَقت بے رُخی اور لاپرواہی سے اِدھر اُدھردیکھتے ہوئے ہاتھ ملانا کسی کا دل توڑ کر اُس کو مَعاذَاللہ گمراہی کے گہرے گڑھے میں گر اسکتا ہے۔لہٰذا جب بھی کسی سے ملیں ، گفتگو کریں اُس وَقت حتی الامکان مُسکراتے رہیے۔اگر خُشک مزاجی یا بے توجُّہی سے ملنے کی خصلت ہے تو مِلنساری اورمُسکرا کر ملنے کی عادت بنانے کےلیے خوب کوشش کیجئے،  بلکہ مُسکرانے کی عادت پکی کرنے کے‏لیے ضَرورتًا کسی کی ذِمّے داری بھی لگایئے کہ وہ دوسروں سے بات کرتے ہوئے آپ کا منہ پھولا ہوا یا سَپاٹ مَحسوس کرے تو گاہے بہ گا ہے یاد دِہانی کرواتے ہوئے کہتا رہے یا آپ کو اِس طرح کی تحریر دکھا دیاکرے: ’’ بات کرتے ہوئے مُسکرانا سنَّت ہے۔ ‘‘  جی ہاں واقعی یہ سنَّت ہے۔ 
چنانچِہ منقول ہے کہ حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمِّ دَرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا،  حضرتِ سیِّدُناابو دَرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے مُتَعَلِّق فرماتی ہیں کہ وہ ہر بات مُسکرا کر کیا کرتے، جب میں نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو اُنہوں نے جواب دیا: ’’ میں نے حُسن اخلاق کےپیکر، ملنساروں کے رہبر، غمزدوں کے یاوَر، محبوبِ ربِّ اکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو دیکھا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دَورانِ گفتگو مسکراتے رہتے تھے۔ ‘‘  (1)  
جس کی تسکیں سے روتے ہوئے ہنس پڑیں
اُس تبسُّم کی عادت پہ لاکھوں سلام
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد



________________________________
1 -   مکارم الاخلاق للطبرانی،ص۳۱۹،حدیث: ۲۱،نیکی کی دعوت،ص۲۴۵۔