اِس سے آپس میں وہ اُلفت حاصل ہوتی ہے جو ( شریعت کو ) مطلوب ہے۔ (1)
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں :”مسلمانوں سے خوشی و مسرت کے ساتھ ملنا بھی نیکی ہے کیونکہ یہ سامنے والے کے دل میں خوشی پیدا کرتی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمان کے دل کو خوشی پہنچانا نیکی ہے۔ ‘‘ (2)
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ صوفیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں کہ کوئی نیکی حقیر جان کر چھوڑ نہ دو کہ کبھی ایک گھونٹ پانی جان بچا لیتا ہے اور کوئی گناہ حقیر سمجھ کر کر نہ لو کہ کبھی چھوٹی چنگاری گھر پھونک دیتی ہے۔اِن کا ماخذ یہ حدیث ہے، مسلمان بھائی سے خوش ہو کر ملنا، اس کے دل کی خوشی کا باعث ہے اور مؤمن کو خوش کرنا بھی عبادت ہے۔ ‘‘ (3)
مسکراکرملنا صَدَقہ ہے:
حضرتِ سَیِّدُنَا حسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ راحت قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: ’’ تمہارا لوگوں کو گرم جوشی سے سلام کرنا بھی صدقہ ہے۔ ‘‘ (4)
آقائے دو جہاں ، سرورِ کون ومکاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ اپنےبھائی سے مسکرا کرملنا تمہارے لیے صَدَقہ ہے اور نیکی کی دعوت دینا اور بُرائی سے منع کرنا صَدَقہ ہے۔ ‘‘ (5)
بات کرتے ہوئے مُسکرانا سنت ہے:
شیخ طریقت، امیرِاہلسنت، بانی دعوتِ اسلامی، حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطارقادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ
________________________________
1 - دلیل الفالحین، باب فی بیان کثرۃ طرق الخیر، ۱ / ۳۵۶، تحت الحدیث: ۱۲۱۔
2 - مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الزکاۃ، باب فضل الصدقۃ، ۴ / ۳۹۶، تحت الحدیث: ۱۸۹۴۔
3 - مرآۃالمناجیح،۳ / ۹۶۔
4 - جامع العلوم والحکم،ص۲۹۶، تحت الحدیث الخامس والعشرون۔
5 - ترمذی، کتاب البروالصلۃ، باب ما جاء فی صنانع المعروف،۳ / ۳۸۴ ،حدیث: ۱۹۶۳۔