Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
335 - 662
حدیث نمبر:121                                                                   
کسی نیکی کو حقیر نہ جانو
عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ قَالَ: قَالَ لِیَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوۡفِ شَیْئًاوَلَوْ اَنْ تَلْقَی اَخَاکَ بِوَجْہٍ طَلِیْقٍ. (1)  
ترجمہ  :حضرتِ سَیِّدُناابو ذَررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہ حضورنبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے ارشاد فرمایا:”تم کسی نیکی کو حقیر نہ جانو اگر چہ وہ تمہارا اپنے بھائی سے  خندہ پیشانی کے ساتھ ملاقات کرنا ہی ہو ۔ ‘‘ 
ہرنیکی پر ثواب دیا جاتا ہے:
حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّابفرماتے ہیں : ’’ حدیث ِ مذکور میں  بھلائی کے کاموں پر اُبھارا گیا ہے، خواہ وہ کم ہوں یا زیادہ ۔اوراس بات پر بھی  کہ کسی  چھوٹی نیکی کو بھی حقیر جان کرنہ  چھوڑو۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرماتاہے: ( فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ (۷) )   (پ:۳۰،  الزلزال:۷)  (ترجمہ ٔ کنزالایمان: تو جو ایک ذرہ بھربھلائی کرے اسے دیکھے گا۔)  یہ بھی  معلوم ہوا کہ مسلمانوں سے خندہ پیشانی سے ملنا شریعت میں محمود ہے اور اس پر  اجر دیا جائے گا ۔ ‘‘  (2)  
مسلمانوں کو  خوش کرنا بھی نیکی ہے:
دلیل الفالحین میں ہے: یعنی کسی  بھی نیکی کو چھوٹی  سمجھ کر نہ چھوڑو کیونکہ  بسا اوقات چھوٹی نیکی  رضائے الٰہی کا سبب  بن جاتی ہے۔ جیسا کہ بخاری شریف میں حضرت سَیِّدُنَا  ابو ہریرہ   رَضِیَ اللہُ تَعَا لٰی عَنْہُ سے مروی  ہے: ”بے شک! بندہ بعض اوقات ایسا کلمہ کہہ دیتا ہے جو اس کی نظر میں اہم نہیں ہوتا لیکن اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی وجہ سے اس کے درجات بلند فرمادیتا ہے۔“ اپنے مسلمان بھائی  سے خندہ پیشانی  کے  ساتھ ملاقات کرنا  بھی نیکی ہے ،  کیونکہ اس میں مسلمان بھائی کے ‏لیے اُنسیت اور  خوف و وحشت  سے  دُور ی ہے اور



________________________________
1 -   مسلم، کتاب البر والصلۃ ، باب استحباب طلاقۃالوجہ۔۔۔ الخ، ص۱۴۱۳، حدیث: ۲۶۲۶۔
2 -   اکمال المعلم، کتاب البر والصلۃ، باب استحباب طلاقۃ الوجہ عند اللقاء، ۸‏ / ۱۰۶، تحت الحدیث: ۲۶۲۶۔