بھی اشارہ ملتا ہے: ( وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَیْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِؕ-) (پ۲۰، القصص:۵۰) ترجمہ ٔ کنزالایمان: ’’ اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون جو اپنی خواہش کی پیروی کرے اللہ کی ہدایت سےجدا۔ ‘‘ (1)
تبلیغِ دین ذِکر و اَذکار سے اَفضل ہے:
(ہرتسبیح وتحمید وتکبیر وتہلیل صدقہ ہے) ”مرآۃ المناجیح“میں ہے: ’’ اس فرمانِ عالی شان سے معلوم ہوا کہ جو کوئی سُبْحَانَ اللہ یا اَللہُ اَکْبَر یا اَلْحَمْدُلِلّٰہِ یا لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ کسی طرح بھی کہے صدقہ نفلی کاثواب پائے گا۔خواہ ذِکرُاللہ کی نیت سے کہے یاکسی حاجت کے لیے بطورِ وظیفہ یہ الفاظ پڑھے یا عجیب بات سن کر سُبْحانَ ﷲ وغیرہ کہےیاخوشخبری پا کر اَلْحَمْدُلِلّٰہِ پڑھے، بہرحال ثواب ملے گا۔ کیونکہ اللہ (عَزَّ وَجَلَّ ) کا نام لینا بہرحال عبادت ہے۔ اگر کوئی شخص ٹھنڈک کے لیے اَعضائے وضو دھوئے تب بھی وضو ہوجائے گا کہ اس سے نمازجائز ہوگی۔اللہ (عَزَّ وَجَلَّ) کانام زبان کاوضو ہے۔ (نیکی کا حکم کرنا صدقہ ہے اور برائی سے منع کرنا صدقہ ہے) یعنی ہر تبلیغ میں خیرات کا ثواب ہے۔ بلکہ اس کا ثواب پہلے ثوابوں سے زیادہ کہ اس میں ذِکرُ ﷲبھی ہے اور لوگوں کو فیض پہنچنا بھی۔قلمی تبلیغ صدقۂ جاریہ ہے کہ جب تک لوگ اس کی کتاب سے دینی فائدہ اٹھائیں گے، تب تک اسے ثواب ملتا رہے گا۔ یہ ایک کلمہ بہت جامع ہے۔ ‘‘ (2)
سنتیں عام کریں ، دین کا ہم کام کریں :
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ تبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیرغیر سیاسی تحریک”دعوتِ اسلامی“کے مہکے مہکے مدنی ماحول میں بکثرت سنتیں سیکھی اور سکھائی جاتی ہیں ، دعوتِ اسلامی کا مدنی مقصد یہ ہے کہ”مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اِصلاح کی کوشش کرنی ہے ۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ“اپنی اصلاح کی کوشش کے لیے مدنی انعامات پر عمل اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کے لیے مدنی قافلوں میں سفر کرنا ہے۔ نیز اسی مُقَدَّس جذبے کے تحت دنیا بھر میں ہر جمعرات کو بعد نمازِ مغرب”دعوتِ اسلامی“کے ہفتہ وار سنتوں بھرے
________________________________
1 - مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الزکوۃ، باب فضل الصدقۃ، ۴ / ۴۰۰، تحت الحدیث: ۱۸۹۸۔
2 - مرآۃالمناجیح،۳ / ۹۸۔