’’ یا رسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ثواب تو سارا مالدار لے گئے، وہ ہماری طرح نماز پڑھتے ہیں ، ہماری ہی طرح روزہ رکھتے ہیں اوراپنے زائدمال سے صدقہ بھی کرتے ہیں ۔ ‘‘ (جبکہ ہمارے پاس مال نہیں جس سے ہم صدقہ کریں ) ارشادفرمایا: ’’ کیااللہعَزَّ وَجَلَّنے تمہارے لیے وہ چیز نہیں بنائی جس کے ذریعے تم صدقہ کرو! (سنو!) بے شک!ہر تسبیح (سُبْحَانَ اللہکہنا) صدقہ ہےاور ہرتکبیر (اَللہُ اَکْبَر کہنا) صدقہ ہے، ہرتحمید (اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا) صدقہ ہے اور ہرتہلیل (لَااِلٰہَ اِلَّا اللہ کہنا) صدقہ ہے ، نیکی کا حکم کرنا صدقہ ہے اور برائی سے منع کرنا صدقہ ہےاوراپنی زوجہ سےصحبت کرنابھی صدقہ ہے۔ ‘‘ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننےعرض کی: ’’ یا رسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہم میں سے کوئی اپنی خواہش کی تکمیل چاہتا ہے تو کیا اس پر بھی اس کے لیے اجر ہے؟ ‘‘ ارشادفرمایا: ’’ تمہاراکیا خیال ہے اگر وہ حرام جگہ اپنی خواہش پوری کرتا تو اسےگناہ نہ ملتا؟ اسی طرح جب وہ حلال جگہ اپنی خواہش پوری کرےگاتو اسے اس پر اَجر ملےگا۔ ‘‘
صدقہ سے موسوم کرنے کی وجہ:
شرح صحیح مسلم للنووی میں ہے: ’’ ان تمام امور کو صدقہ سے موسوم کیا گیا ہے ۔ایک احتمال تو یہ ہے کہ اِن اُمور میں حقیقتاً صدقہ کرنے کا ثواب ہےاوربطورِ مقابلہ اُنہیں صدقہ کا نام دیا گیا ۔ دوسرا یہ ہے کہ یہ اُمور نفس پر صدقہ ہیں ۔ ‘‘ (1)
امربالمعروف ونہی عن المنکر کا ثواب زیادہ:
نیکی کاحکم دینا اور برائی سے منع کرنا یہ بھی صدقہ ہے۔ اسی طرح سُبْحَانَ اللہ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، اَللہُ اَکْبَرُاورلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کہنا بھی صدقہ ہے۔ اَذکارِمذکورہ کے مقابلے میں ’’ اَمْرٌ بِالْمَعْرُوْفِ وَنَھْیٌ عَنِ الْمُنْکَرْیعنی نیکی کی دعوت دینے اور بُرائی سےمنع کرنے ‘‘ کا ثواب زیادہ ہےکیونکہ یہ فرض کفایہ ہے۔ جبکہ تسبیح ، تحمیداور تہلیل کا شمار نوافل میں ہوتا ہے۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ فرض کاثواب نفل سے زیادہ ہے۔ جیسا کہ حدیثِ قدسی ہےکہ ”میرا بندہ کسی چیزکےذریعےبھی میرا اتنا قرب حاصل نہیں کرتا جتنا قرب
________________________________
1 - شرح مسلم للنووی،کتاب الزکوۃ، باب بیان ان اسم الصدقۃیقع۔ ۔۔الخ،۴ / ۹۱، الجزءالسابع ملخصا۔