Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
330 - 662
 جاتے ہیں ،  اس ‏لیے ہمیں اَعمال صالحہ کی کثرت   اور  بر ائیوں  سے دُور رہنا چاہیے تاکہ   بروزِ قیامت شرمندگی  کا سامنا  نہ  کرنا پڑے۔ 
(1)	ہروہ کام باعث ِفضیلت ہے جومسلمانوں کے ‏لیے فائدہ مند اوران سے تکلیف دور  کرنے والا  ہواور اسے کرنا شرعا ًبھی جائز ہو ۔
(2)	مسجد میں تھوکنا،  ناک صاف کرنا  یا کسی بھی طریقے سے گندگی پھیلانا ناجائز وگناہ ہے۔ بلکہ جو مسجد میں ایسی گندگی دیکھے اور باوجود قدرت اسے دُور نہ کرے وہ بھی قابلِ مذمت ہے۔
(3)	جہاں  موقع ملے نیکیوں کی کثرت کرنی چاہیے  کہ نیکیاں جتنی زیادہ ہوں گی آخرت کے حساب وکتاب اور اس کی مختلف منزلوں میں اتنی ہی آسانی ہوگی۔
اللہ عَزَّ  وَجَلَّہمیں مسلمانوں کے ساتھ خیرخواہی ،  نیکیوں کی کثرت اور تمام برائیوں سے دُور رہنے کی توفیق عطا فرمائے ۔     آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:120		  
ہرتسبیح صدقہ ہے
عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ: اَنَّ نَاسًا قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!ذَہَبَ اَہْلُ الدُّثُوْرِ بِالاُجُوْرِ، یُصَلُّوْنَ  کَمَانُصَلِّیْ،  وَیَصُوْمُوْنَ کَمَانَصُوْمُ،  وَیَتَصَدَّقُوْنَ بِفُضُوْلِ اَمْوَالِہِم،  قَالَ: اَوَلَیْسَ قَدْ جَعَلَ اللّٰہُ لَکُمْ مَا تَصَدَّقُوْنَ  بِہ؟   اِنَّ بِکُلِّ تَسْبِیْحَۃٍ صَدَقَۃً،  وَکُلِّ تَکْبِیْرَۃٍ صَدَقَۃً،  وَکُلِّ تَحْمِیْدَۃٍ صَدَقَۃً،  وَکُلِّ تَہْلِیْلَۃٍ صَدَقَۃً،  وَاَمْرٌ بِالْمَعْرُوْف ِصَدَقَۃٌ،  وَنَہْیٌ عَنْ مُنْکَرٍ صَدَقَۃٌ،  وَفِیْ بُضْعِ اَحَدِکُمْ صَدَ قَۃٌ.قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَیَاتِیْ اَحَدُنَاشَہْوَتَہُ وَیَکُوْنُ لَہُ فِیْہَا اَجْرٌ ؟   قَالَ:اَرَاَیْتُمْ لَوْ وَضَعَہَا فِیْ حَرَامٍ اَ کَانَ عَلَیْہِ فِیْہَا وِزْرٌ ؟   فَکَذٰلِکَ اِذَا وَضَعَہَا فِی الْحَلَالِ کَانَ لَہُ اَجْرٌ.  (1) 
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُناابوذررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ لوگوں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی:



________________________________
1 -   مسلم، کتاب الزکاۃ، باب بیان ان اسم الصدقۃ ۔۔۔الخ ، ص۵۰۳،حدیث: ۱۰۰۶۔