اسی طرح ہڈیاں اورشیشے کے ٹکڑے عام طورپرلوگ راستوں میں ڈال دیاکرتے ہیں ۔اِن حرکتوں سے مسلمان کو بچنا چاہیے بلکہ راستوں میں کوئی تکلیف دہ چیزپر اگر نظر پڑجائے تو اس کو راستوں سے ہٹا دینا چاہیے۔اِنْ شَآءَ اللہُ تَعَالٰیاگر یہ عمل مقبول ہوگیا تو جنت ملے گی۔ واللہُ تَعَالٰی اَعْلَمُ (1)
تین فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:
راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے سے متعلق3 فرامین مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپیش خدمت ہیں : (1) ’’ جس نے مسلمانوں کے راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹادی اس کے لیے ایک نیکی لکھی جائے گی اور جس کے لیے اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پاس ایک نیکی لکھی جائے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس نیکی کے سبب اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔ ‘‘ (2) (2) حضرتِ سَیِّدُنا ابوبرزہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: ’’ یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!مجھے ایسی چیز کی تعلیم دیجیے جو میرے لیے فائدہ مند ہو۔ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: ’’ مسلمانوں کے راستے سے تکلیف دہ چیز دور کر دو۔ ‘‘ (3) (3) حضرتِ سَیِّدُنا اَنَسْ بن مَالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’ راستے میں پڑاہواایک درخت لوگوں کوتکلیف دیتا تھا۔ ایک شخص نے اسے ہٹادیا تو مکی مدنی سلطان ، رحمتِ عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ میں نے اُسے جَنّت میں اُس دَرَخْتْ کے سائے میں لیٹے ہوئے دیکھا ہے ۔ ‘‘ (4)
مدنی گلدستہ
’’ احمد ‘‘ کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں ہمارے اچھے بُرے اَعمال پیش کیے
________________________________
1 - بہشت کی کنجیاں ،ص۲۰۹۔
2 - المجعم الاوسط، باب الالف من اسمہ احمد ،۱ / ۱۹،حدیث: ۳۲ ۔
3 - مشکوۃالمصابیح، کتاب الزکوۃ، باب فضل الصدقۃ،۱ / ۳۶۲، حدیث: ۱۹۰۶۔
4 - مسند امام احمد،مسند انس بن مالک ، ۴ / ۳۰۹،حدیث: ۱۲۵۷۲ؕ۔