Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
328 - 662
نگاہِ مصطفےٰ کی جولانی :
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان مِرا ۃُ المَناجیح  میں فرماتے ہیں : ’’ یعنی تا قیامت میراجواُمَّتی کوئی بھی اچھا برا عمل کرے گا مجھے سب دکھادیے گئے۔اس سے معلوم ہوا کہ نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّماپنے ہر اُمَّتی اور اس کے ہر عمل سے خبردار ہیں ۔ حضور انور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی نگاہیں اندھیرے،  اُجیالے کھلی چھپی،  موجودو معدوم ہر چیز کو دیکھ لیتی ہیں ۔جس کی آنکھ میں مَازَاغَ کاسرمہ ہواس کی نگاہ ہمارے خواب وخیال سے زیادہ تیز ہے۔ہم خواب وخیال میں ہر چیز  کو دیکھ لیتے ہیں ۔حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنگاہ سے ہر چیز کا مشاہدہ کرلیتے ہیں ۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ یہاں اعمال میں دل کے اعمال بھی داخل ہیں لہٰذا حضور عَلَیْہِ السَّلَام ہمارے دلوں کی ہر کیفیت سے خبردار ہیں ۔ ‘‘  راستے  سے تکلیف دہ چیز ہٹانا۔راستے سے مسلمانوں کا راستہ مراد ہے یعنی جس راستے سے مسلمان گزرتے یا گزر سکتے ہوں وہاں سےکانٹا، اینٹ،  پتھر دُور کردینا ثواب ہے۔ جانوروں ، جنات،  حربی کُفّار کاراستہ مُراد نہیں ۔ اِن کافروں کے راستے میں کانٹے ، بارودبچھانا،  اِن کے پل توڑنا،  ڈائنامیٹ لگا کر راستے اُڑا دینا سب کچھ عبادت ہے کیونکہ جہاد میں یہ سب کچھ ہوتاہے۔ ‘‘  (1) 
شیخ الحدیث حضرت علامہ عبدالمصطفیٰ اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں :  ’’ ہر وہ تکلیف دہ چیز مثلاً کانٹا،  شیشہ،  ٹھوکر کی چیزیں جس سے چلنے والوں کوایذا پہنچنے کا اندیشہ ہو اس کو راستوں سے ہٹا دینا بہت معمولی کام ہے لیکن یہ عمل اللہ تعالٰی کو اِس قدر پسند ہے کہ وہ اس کی جزا میں اپنے فضل و کرم سے جنت عطا فرما دیتا ہے۔آج کل کے مسلمان اس عملِ صالح کی عظمت اوراِس کے اجروثواب سے بالکل ہی غافل ہیں ۔بلکہ اُلٹے راستوں میں تکلیف کی چیزیں ڈال دیاکرتے ہیں ۔ مثلاًعام طورپرلوگ کیلاکھاکراُس کاچھلکاریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پرپھینک دیا کرتے ہیں ۔گاڑی آنے پرمسافربدحواس ہوکرٹرین میں چڑھنے کے ‏لیے دوڑتے او ر کیلے کے چھلکوں پرپاؤں پڑجانے سے پھسل کرگرجاتے ہیں اوربعض شدیدزخمی ہوجاتے ہیں ، 



________________________________
1 -   مرآۃالمناجیح،۱‏ / ۴۳۹ ملتقطا۔