Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
327 - 662
حدیث نمبر:119			
اُمَّت کے اچھے اوربُرے اَعمال
عَنْ اَبِیْ ذَرٍّقَالَ: قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: قَالَ: عُرِضَتْ عَلَیَّ  اَعْمَالُ اُمَّتِیْ حَسَنُہَا وَسَیِّئُہَا،  فَوَجَدْتُ فِیْ مَحَاسِنِ اَعْمَالِہَا الْاَذَی یُمَاطُ عَنِ الطَّرِیْق،  وَوَجَدْتُ فِیْ مَسَاوِیءِ اَعْمَالِہَا النُّخَاعَۃَ  تَکُوْنُ فِیْ الْمَسْجِدِ لَا تُدْفَنُ. (1)  
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُناابوذَررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:  ’’ میری اُمَّت کے اچھے اوربُرے اعمال مجھ پر پیش کیے گئےتو میں نےان کے اچھےاعمال میں  راستےسے تکلیف دہ چیز کو دور کرنا بھی پایااوران کے بُرے اعمال میں سےاس  تھوک کوبھی پایا  جو مسجد میں ہواور اسے دُور نہ  کیاگیا ہو۔ ‘‘ 
مسلمانوں کی  خیر خواہی :
دلیل الفالحین میں ہے: ’’ میں نےان کے اچھےاعمال میں راستے سے تکلیف دہ  چیز ہٹانے کو  بھی پایا۔ جیسے پتھراور کانٹے وغیرہ ہٹاناتاکہ گزرنے والوں کو تکلیف نہ ہو۔ اس فرمان ِ عالی  سے  لوگوں کو  فائدہ پہنچانے اور ان سے تکالیف دور کرنے کی  فضیلت ظاہر ہوتی ہے۔ ‘‘ ابنِ رسلان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’ میں نے بعض مشائخ  کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامسے سنا کہ  جو  راستے  سے  تکلیف دہ چیز ہٹائے تو اسے چاہیے کہ لَااِلٰہَ اَلّااللہُ بھی  پڑھ لے تاکہ ایمان کا ادنیٰ اور اعلیٰ شعبہ اورقول وفعل  جمع ہوجائیں ۔ ‘‘  (2)  (ایما ن کا اعلیٰ شعبہ لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُاورادنیٰ شعبہ راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا نا ہےجو کہ  فعل اور کلمہ طیبہ قول ہے۔) 
شرح مسلم للنووی میں ہے: ’’ اس سےظاہر ہوا کہ اس قباحت اور مذمت میں تھوکنے والے کے ساتھ ہر وہ شخص بھی شامل  ہے جواس تھوک کو دیکھے اوردفن یا صاف کرکے زائل نہ کرے۔ ‘‘  (3) 



________________________________
1 -   مسلم، کتاب المساجد و مواضع الصلوۃ ، باب النھی عن البصاق۔۔۔ الخ ، ص۲۷۹، حدیث: ۵۵۳۔
2 -   دلیل الفالحین، باب فی بیان کثرۃ طرق الخیر،۱‏ / ۳۵۳، تحت الحدیث: ۱۱۹ملتقطا۔
3 -   شرح مسلم للنووی، کتاب المساجد و مواضع الصلوۃ ، باب النھی عن البصاق ۔۔۔الخ، ۳‏ / ۴۲، الجزءالخامس۔