اور نَھْیٌ عَنِ الْمُنْکَریعنی بُری بات سے منع کرنابھی صدقہ ہے ۔ ‘‘ (1)
عمرے کا ثواب:
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان مرآۃ المناجیح میں فرماتے ہیں : ’’ یعنی ان سب میں صدقۂ نفلی کا ثواب ہے اور یہ بدن کے جوڑوں کی سلامتی کا شکریہ بھی ہے۔ لہٰذا اگر کوئی انسان روزانہ تین سو ساٹھ360 نفلی نیکیاں کرے تو محض جوڑوں کا شکریہ ادا کرے گاباقی نعمتیں بہت دور ہیں ۔ یہاں چاشت سے مراد اشراق ہی ہے اس نماز کے بڑے فضائل ہیں ۔ بہتر یہ ہے کہ نمازِ فجر پڑھ کر مصلّے پر ہی بیٹھا رہے، تلاوت یاذکرِخیرہی کرتارہے، یہ رکعتیں پڑھ کرمسجدسےنکلے اِنْ شَآءَﷲ عمرہ کاثواب پائے گا۔ ‘‘ (2)
صدقے سے بلائیں ٹلتی اور رحمتیں اترتی ہیں ، بعض مرتبہ اخلاص سے دیا گیا تھوڑا سا صدقہ بھی بہت بڑی مصیبت سے نجات کا باعث بن جاتا ہے۔ اس ضمن میں ایک ایمان افروز حکایت ملاحظہ فرمائیے۔چنانچہ،
ایک لقمہ صدقہ کی برکت:
حضرتِ سیِّدُنا ثابت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے منقول ہےکہ ایک عورت کھانا کھا رہی تھی آخری لقمہ کھانے کے لیے اس نے جیسے ہی منہ کھولا، سائل نے یوں صدا لگائی: ”مجھے کھانا کھلاؤ۔“چنانچہ اس نے وہ لقمہ سائل کو دے دیا ۔ کچھ عرصے کے بعد اس کے ننھے بچے کوشیر چھین کر لے گیا۔ ابھی شیر تھوڑی ہی دور گیا تھا کہ اچانک ایک شخص نمودار ہوااوراس نے شیر کے دونوں جبڑے پھاڑ کر بچہ ا س کے منہ سے نکالااورعورت کو دیتے ہوئے کہا : ’’ لقمے کے بدلے لقمہ۔ ‘‘ (3) ( یعنی تو نے سائل کو ایک لقمہ کھلایا اس کی بر کت سے تیرا بچہ شیر کا لقمہ بننے سے بچ گیا ۔)
________________________________
1 - دلیل الفالحین، باب فی بیان کثرۃ طرق الخیر، ۱ / ۳۵۰، ۳۵۱، تحت الحدیث: ۱۱۸ ملخصا۔
2 - مرآۃالمناجیح،۲ / ۲۹۶۔
3 - عیون الحکایات، الحکایۃ الثالثۃ والعشرون بعد المائتین،ص ۲۱۷۔