صدقہ ہے اور ہراَلْحَمْدُ لِلّٰہِ صدقہ ہے اورہر لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ صدقہ ہے اور ہر تکبیر اَللہُ اَکبَرصدقہ ہے اور نیکی کاحکم دینا اور برائی سے منع کرنابھی صدقہ ہےاوران سب کی طرف سے چاشت کی دو۲رکعتیں کفایت کرتی ہیں ۔ ‘‘
نیکیاں کمانے کا آسان طریقہ:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس حدیث پاک میں بھی نیکیاں کمانے کا کتنا آسان طریقہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہسُبْحَانَ اللہ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ، اَللہُ اَکْبَر کہتے رہیں اور خوب ثواب کماتے رہیں اور چاشت کےوقت کی دو2 رکعتیں اِن تمام اَذکار کے برابر ہیں ۔سُبْحَان اللہ!دین ِاسلام میں نیکیاں کمانا کتنا آسان ہے۔اللہعَزَّ وَجَلَّہمیں نیکیوں سے محبت عطا فرمائے، خوب نیکیاں کرنے کی توفیق عطافرمائے۔آمین
نمازِچاشت کی فضیلت:
دلیل الفالحین میں ہے :حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرما یا : ’’ تم میں سے جو صبح کرے، اس کے ہرعضو یعنی ہر ہڈی اور جوڑ پرصدقہ ہے۔ ‘‘ جب وہ آفات سے سلامتی کے ساتھ صبح کرے اور ایسی حالت میں ہو کہ اپنے تمام اَفعال و منافع مکمل کر سکے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ نےبندے کو آفات و بلیّات سے محفوظ رکھا، اُس کے اِس عظیم اِحسان کا شکر ادا کرنے کا بہترین ذریعہ یہ ہے کہ وہ ہر جوڑ کا صدقہ ادا کرے اور اذکارِ مذکورہ بھی ہر جوڑ کاصدقہ ہیں اورچاشت کے وقت کی دو رکعتیں تمام جوڑوں کا صدقہ ہیں ۔ حضرت سَیِّدُنَا بُرَیدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ”آدمی کے تین سو ساٹھ 360جوڑ ہوتے ہیں ، اسے ہر جو ڑ کا صدقہ ادا کرنالازم ہے۔ ‘‘ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی: ’’ یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اس کی طاقت کون رکھ سکتا ہے؟ ‘‘ فرمایا : ’’ مسجد میں پڑی ہوئی گندگی دُورکرنا اور راستے سے تکلیف دہ چیزہٹادینابھی صدقہ ہے۔اگر تم اس پر قدرت نہ رکھو توچاشت کی دورکعتیں تمہاری طرف سے کفایت کریں گی۔“ اسی طرحسُبْحَانَ اللہ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ، اَللہُ اَکْبَر کہنا بھی صدقہ ہے اور اَمْرٌ بِالْمَعْرُوْف یعنی اچھی بات کا حکم دینا