Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
323 - 662
مدنی گلدستہ
 ’’ اِیمان ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)	ایمان تمام اعمالِ صالحہ کی بنیادہےاس کے بغیرکوئی بھی نیک عمل قابل قبول نہیں ۔
(2)	اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی راہ میں وہ چیز صدقہ کرنی چاہیےکہ  جوعُمدہ اور قیمتی ہو۔
(3)	اَعمال کی افضیلت حالاتِ  زمانہ  اور  لوگوں کی حالت کے اِعتبار  سےمختلف ہوتی ہے ۔
(4)	انسان کو جو نیکی میسر آئے اُسے  فوراً کر لے ، سستی  کی وجہ سےہر گز ترک نہ کرے ۔ 
(5)	 کسی بے ہنر محتاج  کی بہترین اور مستقل  مدد یہ  ہے کہ اسے کوئی اچھاہنر سکھا دیا جائے  تاکہ  کام کاج کرکے   خود بھی محتا جی  سے بچے اور عیال دار ہو تواپنے عیال کو بھی محتاجی سے بچائے ۔
اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہمیں اَعمال  صالحہ کرنے اور صالحین  کی صحبت اختیارکرنے کی  توفیق عطا فرمائے، ہم سب کاخاتمہ اِیمان پر فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
                         حدیث نمبر:118  				
ہر جوڑ پر صدقہ ہے
عَنْ اَبِیْ ذَرٍّاَیْضًارَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: یُصْبِحُ عَلَی کُلِّ سُلَامَی مِنْ اَحَدِکُمْ صَدَقَۃٌ،  فَکُلُّ تَسْبِیْحَۃٍ صَدَقَۃٌ،  وَکُلُّ تَحْمِیْدَۃٍ صَدَقَۃٌ،  وَکُلُّ تَہْلِیْلَۃٍ صَدَقَۃٌ،  وَکُلُّ تَکْبِیْرۃٍصَدَقَۃٌ،  وَاَمْرٌ  بِالْمَعْرُوْفِ صَدَقَۃٌ،  وَ نَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَرِ صَدَقَۃٌ،  وَیُجْزِءُ مِنْ ذَلِکَ رَکْعَتَانِ یَرْکَعُہُمَا مِنَ الضُّحَی. (1) 
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُنا ابو ذَر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےہی مروی ہے کہ رسول ِاکرم نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:  ’’ تم میں سے جو شخص صُبح کرتا ہے اس کے ہر جوڑ پر صدقہ لازم ہے۔ تو ہر سُبْحَانَ اللہ



________________________________
1 -   مسلم،کتاب صلوۃ المسافرین وقصرھا،باب استحباب صلوۃ الضحی۔۔۔الخ،ص۳۶۳،حدیث: ۷۲۰۔