Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
322 - 662
بے مثال قوم:
منقول ہے کہ حضرت سیِّدُناموسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے انتقال کے بعد بنی اسرائیل نے دین میں باطل چیزوں کی آمیزش کی تو ایک گروہ اُن سے جدا ہو گیا۔ انہو ں نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دُعا کی کہ ’’  اے اللہ عَزَّوَجَلَّ!ہمیں دین میں ملاوٹ کرنے والوں سے دُور کر دے۔ ‘‘  چنانچہ زمین کے نیچے ایک سوراخ ظاہر ہوا،  اس میں چلتے ہوئے ایک کشادہ وسیع میدان میں پڑاؤ ڈال دیا۔ اُن  کی اولاد سب نسلیں مستقل طور پر وہیں مقیم ہو گئیں ۔ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا ذوالقرنین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سیرکرتےہوئےجب وہاں پہنچےتو  دیکھا کہ یہاں لوگوں کی عمریں دراز ہیں ،  کوئی فقیر نہیں ،  قبریں گھر وں کے دروازوں کے قریب اور عبادت گاہیں  دُور ہیں ۔ گھروں پر دروازےنہیں ،  نہ اُن پر کوئی حاکم و امیر۔ آپ نے پوچھا کہ ان سب باتوں کا راز کیا ہے؟   لوگوں نےعرض کی : ’’ اے بادشاہ!ہماری عمر یں لمبی ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ان میں ہمارے لیے برکت رکھی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم انصاف کرنے والے ہیں تو ہماری لمبی عمریں ہمارے انصاف  کرنے کی وجہ سے ہیں ۔ ہم میں سے جب کوئی محتاج ہو جاتاہے تو ہم مل کر اس کی محتاجی دُور کرتے ہیں ،  اس طرح ہم سب  مالدار ہیں ۔ ہمارا قبرستان گھروں  سے قریب  ہے۔ کیونکہ ہم نے اپنے علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامسے سنا ہے کہ قبر زندوں کو موت کی یاد دلاتی ہے۔اور عبادت گاہوں کے دُور ہونے کا سبب یہ ہے کہ  ہمیں انبیاء کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام اور علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے  بتایا  کہ  عبادت گاہ  کی طرف جتنے  زیادہ  قدم  چلیں گے  اتنی ہی زیادہ نیکیاں ملیں گی۔ ہمارے گھروں کے دروازے اس ‏لیے نہیں ہیں  کہ ہم میں سے نہ تو کوئی چور بنتا ہے اور نہ ہی کوئی چوری کرتا ہے،  اس لیے ہمیں دروازوں کی حاجت ہی نہیں ہے۔اور ہم پر کوئی حاکم یا امیر نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے پر ظلم نہیں کرتے ، بلکہ ہم باہم عدل وانصاف سے کام لیتے ہیں لہٰذاہمیں امیروحاکم کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ‘‘  حضر ت سیِّدُنا ذوالقرنین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے ارشاد فرمایا:  ’’ میں نے تمہاری مثل کوئی قوم نہیں دیکھی اور اگر میں نے کسی شہر کو وطن بنانے کا اِرادہ کیا تو تمہارے حُسنِ معاشرت اور اَخلاقِ جمیلہ کی وجہ سے اِس شہر کو وطن بناؤں گا۔ ‘‘  (1) 



________________________________
1 -    الروض الفائق،المجلس الثانی والعشرون، ص۱۲۳۔