Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
320 - 662
  ’’ جو اپنے  مالک  کے نزدیک سب سےعُمدہ اور  سب سے زیادہ قیمتی ہو۔  ‘‘ میں نے عرض کی: ’’  اگر میں اس طرح نہ کر سکوں تو؟  ‘‘  فرمایا:  ’’ کسی شخص کے کام میں اس کی مددکرویا کسی بے ہنر وصحیح طرح کام نہ کر سکنے والے شخص کے ‏لیے کام کرو ۔ ‘‘  میں نے عرض کی: ’’ یَا رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ کا کیاخیال ہے اگر میں اُن میں سے بعض کام نہ کرسکوں تو؟   ‘‘ فرمایا:  ’’ لوگوں کواپنے شر سے محفوظ رکھویہ بھی تمہاری طرف سے  تمہاری اپنی ذات پرصد قہ ہے۔ ‘‘ 
دو2 اَفضل ترین اَعمال:
دلیل الفالحین میں ہے :جب حضرت  سَیِّدُنَاابوذَررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے  بارگاہِ رسالت میں عرض کی کہ سب  سے  افضل عمل کونساہے؟ یعنیاللہ عَزَّ  وَجَلَّکے نزدیک کس عمل کاسب سےزیادہ ثواب  ہے؟  توارشاد فرمایا: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّپرایمان لانااور اس کی راہ میں جہاد کرنا ۔ ‘‘  کیونکہایمان بِاللّٰہکی جزاءجنت میں داخلہ اور رضائےالٰہی کاحصول ہےاوراس سے بڑھ کر کوئی شے نہیں ۔اورراہِ خدامیں جہادکامقصداللہ   عَزَّوَجَلََّ کے دین کی سربلندی ہے۔ارشادِباری تعالٰی ہے:
اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَؕ-  (پ۱۱،  التوبۃ:۱۱۱)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: بیشک اللہ نے مسلمانوں سے ان کے مال اور جان خریدلیے ہیں اس بدلے پر کہ ان کے لیے جنت ہے۔ (1)
شیخ عبدالحق مُحَدِّ ث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ یعنی اعمال میں سے افضل ترین دو چیزیں ہیں : (1)  اِیمان جو تمام اَعمال کی جڑ ہے اور اُس کے بغیر کوئی عمل مقبول نہیں ہے، یہ دل کا عمل ہے اور دل انسان کے وجود کا خلاصہ ہے،  اگر کامل ایمان مراد ہو تو وہ خود تمام اَعمال کو شامل ہے اور سب سے بڑا کمال ہے۔ (2)  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی راہ میں دشمنانِ دین سے جنگ کرنا۔ کیونکہ یہ  دینِ اسلام کی قوت اور مسلمانوں کے غلبے کا سبب ہے ، اس اعتبار سے جہاد افضل ترین عمل ہے اگر چہ دیگر وجوہ کے اِعتبار سے



________________________________
1 -   دلیل الفالحین، باب فی بیان کثرۃ طرق الخیر،۱‏ /  ۳۴۷، تحت الحدیث: ۱۱۷۔