(4) اچھے اعمال کی ترغیب
اِرشادِخداوندی ہے:
وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْهُ اللّٰهُ ﳳ- ( پ۲، البقرۃ :۱۹۷)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: تم جو بھلائی کرو اللہ اسے جانتا ہے۔
تفسیر روحُ البیان میں ہے : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّبندے کے ہر کام کوجانتا ہےاوریہ بندے کابھلائیوں پر ثابت قدمی سے کِنایہ ہےاور اس بات کی ترغیب ہے کہ برائی کا بدلہ بھلائی سے دیا جائے۔ قبیح بات کے جواب میں اچھی بات، فِسْق وفُجُور کے بدلےتقویٰ وپرہیزگاری اور لڑائی جھگڑے کے وقت صلح جوئی وحُسن اَخلاق سے کام لیاجائے۔ ‘‘ (1)
باب سے متعلقہ مزید آیات مبارکہ:
اس باب میں علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے یہی مذکورہ بالا چار 4 آیات مبارکہ بیان فرمائی ہیں ، نیز اِن آیات کو بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں : ’’ اس باب سے متعلق اور بھی بہت ساری آیات ہیں ۔ ‘‘ چنانچہ علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کی بیان کردہ چار4آیات کی نسبت سے مزید چار4آیات پیش خدمت ہیں :
(5) نماز قائم رکھو اور زکوۃ دو
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَؕ-وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ (۱۱۰) (پ۱، البقرۃ: ۱۱۰)
ترجمہ ٔ کنزالایمان:اور نماز قائم رکھو اور زکوۃ دو اور اپنی جانوں کے لیے جو بھلائی آگے بھیجو گے اسے اللہ کے یہاں پاؤ گے، بے شک اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔
(6) اچھی چیز دینے میں تمہارا ہی بھلا ہے
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
________________________________
1 - تفسیرروح البیان،پ۲، البقرۃ ، تحت الایۃ: ۱۹۷ ،۱ / ۳۱۴ملخصا۔