Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
316 - 662
 عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے  انہیں کھانے سےروکااورفرمایا: ’’ تم میں سے جس نے دنیا میں نیک عمل کیا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اسے آخرت میں جزا عطافرمائے گا۔اور جس نے دنیا میں کوئی برا کام کیا  وہ اس کا صلہ دنیا ہی میں مرض و مصیبت کی صورت میں پائے گااور جس کے پاس ذرہ برابر بھی نیکی ہوگی وہ جنت میں داخل ہوگا۔ ‘‘  (1) 
تفسیرِ روحُ البیان میں ہے:حضرت سَیِّدُنَا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ  ’’ مؤمن اور کافر کواُن کی ہربھلائی اور بُرائی دکھائی جائے گی،  پھر مؤمن کی خطائیں معاف کردی جائیں گی اور نیکیوں پر اسے اَجر دیا جائے گا۔ جبکہ کافر پراس کی بھلائیاں رَد کردی جائیں گی  اور وہ حسرت میں مبتلا ہو گا ۔ کافر دنیا میں جو بھی   اچھا کام  کرتا ہے،  چاہے وہ ذرہ برابر  ہی کیوں نہ ہو، اسے اس کی جز ا دنیا ہی میں دے دی جاتی ہے۔ ‘‘  (2) 
 (3)  بھلائی کا فائدہ
ارشادِ باری تعالٰی ہے:
مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖۚ-        ( پ۲۵،  الجاثیۃ :۱۵)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: جو بھلائی کا کام کرے تو اپنے ‏لیے۔
تفسیرِ طبری میں ہے :  ’’ جو بندۂ خدااحکام ِالٰہی کی پیروی  کرے اوراس  کےمنع کردہ  اُمور  سے بچےتو اِس میں اُس کااپنا فائدہ ہے۔ کیونکہ  وہ  نیک  عمل کے  ذریعےعذابِ الٰہی سے خلاصی چاہتا ہے۔ نیک عمل کر کے اس نے اپنے ربّ کی اطاعت کی  کسی غیر کی نہیں کی اوراس  عمل سے اسے ہی فائدہ پہنچے گا کسی اور کو نہیں ۔ کیونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہرعامل کے عمل سے  بے نیاز ہے۔ ‘‘  (3) 
تفسیر ِروح البیان میں ہے: ’’ عَمِلَ صَالِحًاسے مرادوہ اعمال ہیں جن کے ذریعے رِضائے الٰہی طلب کی جائے۔اورفَلِنَفْسِہٖسےمرادیہ ہے  کہ اس نیک عمل کافائدہ اورثواب، عمل کرنے والے   کی اپنی ذات ہی  کے ‏لیے ہے۔ ‘‘  (4) 



________________________________
1 -   تفسیر درمنثور،پ۳۰، الزلزال ، تحت الایۃ: ۷،۸‏ / ۵۹۴۔
2 -   تفسیرروح البیان،پ۳۰، الزلزال، تحت الایۃ: ۷ ،۱۰‏ / ۴۹۴۔
3 -   تفسیرطبری،پ۲۵، الجاثیۃ ، تحت الایۃ:  ۱۵ ،۱۱‏ / ۲۵۷۔
4 -   تفسیرروح البیان،پ۲۵، الجاثیۃ ، تحت الایۃ: ۱۵ ،۸‏ / ۴۴۲۔