Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
315 - 662
ہے اور وہ تم کو اس کی جزا ءدے گا۔ ‘‘  (1) 
تفسیر نعیمی میں ہے: ’’ خیر سے  ہر نیک  کام مراد ہے۔ صدقات،  خیرات، نماز،  روزے،  حج،  مسافر خانےاورمسجدیں بنانا وغیرہ یعنی اورجو کچھ بھلائی کروگے اللہ اس کو جانتاہے بے خبر نہیں ۔ بقدرِاخلاص ثواب عطافرمائے گا۔اے نبیصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم! آپ سے خرچ کرنے کے متعلق پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں اور کہاں خرچ کریں ؟  تو اِنہیں دونوں سوالوں کا جواب دے دو کہ اپنی ضرورت سے بچاہوا مال راہِ الٰہی میں خرچ کرو، صحیح جگہ خرچ کرو، غلط مَصْرَف پر خرچ کرنا فضول یا نقصان دہ ہے ۔لہٰذااپنے ماں باپ کو دو کیونکہ انہیں کے دم سے تم دنیا میں آئے ۔اپنے قرابت  داروں کودوکیونکہ ہرشخص کواپنے قرابت داروں کے حال کی زیادہ خبر ہوتی ہے۔اگر تمہارے قرابت داردوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں تو اس میں تمہاری بھی ذلت ہے،  بہتر ہے کہ تمہاری ضرورتیں آپس میں ہی پوری ہوجایاکریں ۔لاوارث ، غریب،   یتیموں کو بھی دو،  کیونکہ  ان کاوالی وارث کوئی نہیں ،  جو ان  کی حاجتیں پوری کرےاور نہ وہ خودکمانے پرقادر ہیں اور مسکینوں اور راہ گیروں کو بھی دوتاکہ اُن کی فوری ضرورتیں پوری ہوجائیں ، اس پر ہی کیا موقوف ہے۔جہاں تک ہوسکے ہر بھلائی کی کوشش کرو تمہارے کسی کام سے ربّ غافل نہیں ، وہ تمہیں ضرور جزادےگا۔ ‘‘  (2) 
 (2) ذرّہ بھر نیکی   کی  قدر و منزلت  
 ارشادِباری تعالٰی ہے:
فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ (۷)   ( پ۳۰،  الزلزال :۷)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: تو جو ایک ذرّہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گا۔
تفسیر دُرِّ منثور میں ہے:اس آیت مبارکہ کے نزول  کے  وقت امیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بارگاہ ِ رسالت میں حاضر  تھے اور کھانا تناول فرمارہے تھے۔ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی



________________________________
1 -   تفسیر خازن، پ۲، البقرۃ ، تحت الایۃ: ۲۱۵ ،۱‏ / ۱۵۲۔
2 -   تفسیرنعیمی،پ۲،البقرہ، تحت الایۃ: ۲۱۵، ۲‏ / ۳۴۲۔