Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
314 - 662
باب نمبر :13	           
بھلائی کے طریقوں کی کثرت کابیان
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دینِ اسلام دینِ فطرت ہے۔یہ سارے کا سارا حق وصداقت پر مبنی ہے۔ تمام نبیوں کے سالار، نبیِ احمدمختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے زند گی کے ہر  شعبے میں مسلمانوں کی  ایسی رہنمائی  فرمائی  کہ دین اسلامپر عمل کر  کےبارگاہِ الٰہی سے بے پایاں رحمتیں حاصل کرنا اِنتہا ئی آسان ہوگیا۔ اسلام میں بھلائی کے طریقے ا تنے کثیر ہیں کہ اگر ان پر چلا جائے تو روز مرہ کا  کوئی بھی  عمل نیکیوں سے خالی نہیں رہ  سکتا ۔  کُتُبِ احادیث میں بھلائی کے یہ  طریقے جا بجا روشن ستاروں کی طرح جگمگارہے ہیں ۔ریاض الصالحین کا یہ باب ’’ بھلائی کے طریقوں کی کثرت ‘‘ کے بارے میں ہے۔ اس باب میں عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے4آیاتِ مقدسہ اور 25احادیثِ مُبارَکہ بیان فرمائی ہیں ۔ پہلے آیات مبارکہ  اور ان کی تفسیر ملاحظہ فرمائیے۔
 (1) ربّ تعالٰی ہر بھلائی کو جانتا ہے
فرمانِ باری تعالٰی ہے:
وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ (۲۱۵)   (پ۲،  البقرۃ :۲۱۵)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: اورجو بھلائی کرو بیشک اللہ اسے جانتا ہے۔
یہ آیت مبارکہ کا آخری جزء ہے،  پوری آیت مبارکہ یوں ہے:
یَسْــٴَـلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَؕ-قُلْ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِؕ-وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ (۲۱۵)   (پ۲،  البقرۃ :۲۱۵) 
ترجمہ ٔ کنزالایمان: تم سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں تم فرماؤ جو کچھ مال نیکی میں خرچ کرو تو وہ ماں باپ اور قریب کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور راہ گیر کے ‏لیے ہے اور جو بھلائی کرو بیشک اللہ اسے جانتا ہے۔
تفسیر ِ خازن میں ہے: ’’ اور تم اپنے والدین، قرابت داروں ، یتیموں ، مسکینوں ، راہ گیروں اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں سےجو بھی بھلائی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رضا و خوشنودی کے ‏لیے  کرو تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس سے باخبر