(1) اگرساری زندگی نیکیوں میں گزرے اورمعاذَاللہ خاتمہ کفرکی حالت میں ہو تو یہ سراسر خسارہ ہی خسارہ ہے، لہذا ایمان پر خاتمے کی دعا ضرور مانگنی چاہیے۔
(2) ویسے تو عمر کے تمام حصوں میں نیکیاں ضروری ہیں لیکن آخری عمر میں بالخصوص بڑھاپے میں تو بہت زیادہ توبہ واستغفار اور نیکیاں کرنی چاہیے کیونکہ اب اس کے بعد تو موت ہی ہے ۔
(3) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بے نیازی سے ڈرتے رہنا چاہیے اور خاتمہ بالخیر کی دعا ضرور کرنی چاہیے۔
(4) بعض اوقات گناہوں کی نحوست ایمان کی بربادی کا باعث بھی بن جاتی ہے۔ لہٰذا ایمان کی حفاظت کے لیے گناہوں سے ہر دم بچنا چاہیے۔
(5) بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن جب کسی کو کفر پر مرتا دیکھتے ہیں تو انہیں اپنی فکر لگ جاتی ہے ، خوف خدا مزیدبڑھ جاتا ہے، گریہ وزاری میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
(6) اللہ عَزَّ وَجَلَّ جس کا ایمان سلامت رکھے اسے ایمان والی موت نصیب ہوتی ہے ۔
(7) بعض اوقات لوگوں کا برا خاتمہ ظاہر کر دیا جاتا ہے تاکہ لوگ عبرت حاصل کریں اور اپنے ایمان کی فکر کریں ۔
(8) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بعض نیک بندے ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں دنیا میں ہی ان کی ایمان افروز موت سے آگاہ کردیا جاتا ہے۔
(9) جو ایمان کی حفاظت کے لیے کڑھتا رہے، اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا کرتا رہے، نیک لوگوں کی صحبت سے فیضیاب ہوتا رہے تواللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات سے امید ہے کہ اس کا خاتمہ بالخیر ہوگا ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں دین و دنیا کی بھلائیاں عطا فرمائے، حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صدقے ہمارا خاتمہ بالخیر فرمائے، ہماری حتمی مغفرت فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد