Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
312 - 662
 موت سے تین دن قبل مجھے بلا کر کہا: ’’  میرے بچے ! میراتجھ پر اور تیرا مجھ پر حق ہے۔میں تین دن بعد مر جاؤں  گا،  تو مجھے ایک تابوت میں رکھ کرفلاں جگہ  لے جانا،  وہا ں بھی ایک تابوت  ہوگا ۔ میرا تابوت   وہاں رکھ دینا اور وہ  تابوت  گرجے میں لے جا نا۔ اور اس میں موجود لاش کو  عیسائیوں کے طریقے پر دفن کردینا۔ ‘‘  جب تین دن گزر گئے تو   عیسائی پادری  کا چہرہ خوشی سے کھِل اُٹھا،   اس  نے کلمہ شہا دت پڑھا اور مسلمان ہو کرانتقال کر گیا۔ پھر میں نے ان کے حکم کے مطابق عمل کیا اور اُن  کا تابوت یہا ں لے آیا۔ یہ سارا واقعہ ہے ۔ ‘‘  یہ کہہ کر وہ لوگ شیخ کا تابوت لے کر چلے  گئے اور میں اس خوش نصیب کا تابوت لے کر گھر آگیا جسے  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے موت سے پہلے ایمان کی دولت سے نواز دیا تھا۔   جب میں  نے  تابوت کھولا تو اس میں ایک ایسے بزرگ تھے،  جن پرانوار کی برسات ہو رہی تھی ۔ ان کے سارے بال سفید نورانی  تھے ۔ میں نے  کچھ نیک بندوں  کے  ساتھ مل کر تجہیز وتکفین کا انتظام کیا  اور نمازِ جنا زہ پڑھ کرانہیں دفن کر دیا ۔ وہ دن گواہ ہے کہ میں جب بھی باہر نکلتا ہوں تو میرے چہرے پربُرے خاتمے کے خوف سے غم کے بادل  چھا جاتے ہیں ۔ اس  ‏لیے میں لوگوں سے دُور اور غمگین رہتا ہوں ۔ (1)  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔ آمین
مرا ہر عمل بس ترے واسطے ہو………کر اخلاص ایسا عطا یاالٰہی
ترے خوف سے تیرے ڈر سے ہمیشہ………میں تھر تھر رہوں کانپتا یاالٰہی
مسلماں ہے عَطاَّر تیری عطا سے………ہو ایمان پر خاتمہ یاالٰہی
مدنی گلدستہ
 ’’ خاتمہ بالخیر ‘‘ کے11حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے11مدنی پھول
(1)	جو جس حالت میں مرے گا اسے اسی حالت میں اٹھایا جائے گا ۔
(2)	بندے کو اعمال صالحہ پر استقامت اختیار کرنی چاہیے  تاکہ اچھی حالت میں دنیاسے جائے ۔



________________________________
1 -   الروض الفائق، المجلس  الثاني، ص۱۸۔