Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
311 - 662
اضطراب کے بعد اس پر غشی طاری ہو گئی۔ مجھے گما ن ہوا کہ وہ انتقال کرگیا ہے۔پھراسے ہوش آگیا تومیں نے کچھ باتیں  کر کے  اسے مانوس کرلیا اور  قسم دے کر اس کا حا ل دریافت کیا۔  چنانچہ اس نے  روتے ہوتے اپنا واقعہ کچھ یوں بیان کیا :
میں اپنے شیخ کی خدمت کیا کرتا تھا۔ وہ بہت  نیک  شخص  تھااور لوگوں میں ولی مشہور تھا۔میں نے چالیس سا ل اس کی خدمت کی۔ وفات سے تین دن پہلے اس نے مجھ سے  کہا:  ’’ میرے بیٹے ! میراتجھ پر اور تیرا مجھ پر حق ہے، میری بات غور سے سن،  میں جو وصیت کروں  اس کا پورا کرنا تجھ پر لازم ہے۔ ‘‘ میں نے کہا: ’’ محبت اور عزت سے وصیت پوری کروں گا۔ ‘‘ کہا: ’’ میری عمر کے تین دن باقی ہیں اور میرا خاتمہ کفرپر ہوگا۔ ‘‘  جب میں مر جاؤں تو مجھے میرے کپڑوں سمیت رات کی تاریکی میں ایک تابوت میں رکھ کر شہر سے باہر فلاں جگہ لے جا نا اورطلوعِ آفتاب تک وہیں ٹھہرنا،  وہاں  ایک قافلہ  آئے گا  جن کے پا س  ایک تابوت ہوگاوہ اس کو میرے تابوت کے پہلو میں رکھ دیں گے اور میرا تابوت لے جائیں گے تم وہ دوسراتابوت لے کر واپس آجانا۔ پھراس تابوت کوکھول کر اس میں موجود شخص کو نکالنا اور عزت واحترام سے اس کی تجہیز وتکفین  کرنا ۔ ‘‘ یہ سن کر  میں بہت غمزدہ ہوا اور روتے ہوئے اس افسوس ناک معاملے کی وجہ  دریافت کی ۔ اس شیخ نے کہا:  ’’ میرے بیٹے!یہ سب کچھ لوحِ محفوظ میں لکھا ہواہے۔جو ہو چکا اور جوکچھ ہو گا  سب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے حکم سے ہے۔ (لَا یُسْــٴَـلُ عَمَّا یَفْعَلُ )   (پ ۱۷، الانبیاء:۲۳)   ترجمہ ٔ کنزالایمان: ’’ اس  سے نہیں پو چھا جا تا جو وہ کر ے ۔ ‘‘    جب تین دن گزر گئے تو میرا شیخ مضطرب ہوگیا،  رنگ متغیر ہو گیا اوراس کا چہرہ سیاہ ہو کرمشرق کی طرف گھوم گیا اور وہ اوندھے منہ گر کر مر گیا۔ میں بہت رویا اور مجھے  ایسا غم لاحق ہوا جسے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ پھرمیں حسب وصیت  اس  کاتابوت  لے  کر اس مقام پر پہنچ گیا جو اس نے بیان کیا تھا ۔ 
صبح ہوئی   تو کچھ لوگ وہاں گریہ وزاری  کرتے ہوئے آئے،  ان کے پاس ایک تابوت تھا،  انہوں نے اپنا تابوت شیخ  کے تابوت  کے پاس رکھ دیا۔پھرایک شخص آگے بڑھا اور  شیخ  کاتابوت  اٹھا کر جانے لگا۔ میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا: ’’ جب تک مجھے اپنے متعلق نہ بتاؤ گے میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا۔ ‘‘ اس نےبتایا:  ’’ اس تابوت میں ایک عیسائی پادری کی لاش ہے ۔ میں  چا لیس سال تک  اس کا  خا دم رہا ہوں ۔ اس نے