Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
310 - 662
دونوں ساتھیوں کوٹا ل دیااور خود وہیں رک گیا۔ پھر عیسائی عورت کے والد کے پاس گیا اور اس  سے شادی کی بات کی۔اس نے کہا:  ’’ اس کا مہر تجھ پر بہت بھا ر ی ہے۔ ‘‘ پوچھا: ’’ کیا مہر ہے ؟  ‘‘ کہا:   ’’ تو دینِ اسلا م  چھوڑ کر عیسائی  ہو جا ۔ ‘‘ چنانچہ اس نے عیسائی مذہب اختیار کر کے  اس عورت سے نکاح کر لیا۔ اس کے دو  بچے بھی ہوئے پھر وہ بد نصیب  انہیں یتیم چھوڑ کر  عیسائی  مذہب پر مر گیا ۔ کچھ  عرصے کے بعد  اس کے  ساتھیوں کا  وہاں  گز ر ہوا  تو دریافت کرنے پر بتایا  گیا وہ عیسائی ہو  گیا تھا،  عیسائیت  پر ہی مرا  اور اسے عیسائیوں کے  قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔ وہ اس کی قبر کے پاس گئے تو وہاں ایک عورت اور دو بچوں کو قبر پر روتے ہوئے پایا۔وہ دونوں بھی رونے لگے۔عورت نے ان سے پوچھا: ’’ آپ کیوں رو رہے ہیں ؟  ‘‘  انہوں نے اس کی عبادت،  نماز،  اور زہد کا تذکرہ کیا۔ جب عورت نے یہ سنا تو اس کا دل اسلا م کی طرف مائل ہوگیا اور وہ اپنے دونوں بچوں سمیت اسلا م لے آئی۔ 
حضرتِ سیِّدُنا شیخ ابومحمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں :  ’’ سُبْحَانَ  اللہ! کتنے تعجب  کی بات ہے کہ جومسلما ن تھا  وہ   کا فر ہو کر مرا اور جو  عورت کافر ہ تھی  وہ اپنے بچوں سمیت اسلام لے آئی۔ پس ہرمسلما ن کو چا ہیے کہ اپنے انجام سے ڈر تا رہے اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے حُسنِ خا تمہ کا سوال کرتا رہے۔ ‘‘  (1) 
ربّ تعالٰی کی خفیہ تدبیر :
حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ ہمارے زمانے اور ہمارے علاقے میں  ایک نہایت غمگین  شخص تھا  جسے  ’’ قَضِیْبُ البَان ‘‘  کہا جاتا تھا۔  احترام اور رُعب ودبدبہ کے باعث کوئی اس سے کلام کرنے کی جرأت نہیں کرتا تھا۔ وہ بہت زیادہ رویا کرتا تھا۔  ایک دن میں اس کے پاس گیا  اور پوچھا:  ’’ اے میرے محترم! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو اپنی ذات کے سوا ہر چیز سے بے نیاز کر دیا ہے! آپ کے غم اور  تنہائی  کاسبب کیاہے؟  ‘‘  اس نے مجھے دیکھا اور بہت زیادہ رویا پھر اس کارنگ متغیر ہو گیا۔ کچھ 



________________________________
1 -   الروض الفائق،  المجلس  الثاني، ص۱۶۔