Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
31 - 662
 ’’ بندے کو اُس کا ساتھی یادِالٰہی سے غافل کردیتا ہے اور میں لمحہ بھر بھی اپنے ربّ کی یاد سے غافل ہو کر عبادت کی اُس لذت سے محروم نہیں ہونا چاہتا جسے میں اب محسوس کر رہا ہوں ۔ ‘‘ میں نے کہا:  ’’ اِس ویرانے میں تمہیں وَحشت محسوس نہیں ہوتی؟  ‘‘  کہا: ’’ محبتِ الٰہی نے مجھ سے سب وَحشتیں دُور کردی ہیں اب میں دَرِندوں کے درمیان بھی خوف و وَ حْشَت محسوس نہیں کرتا۔  ‘‘ میں نے کہا :  ’’ تم کہاں سے کھاتے ہو؟  ‘‘  کہا: ’’ جس ربّ نے مجھے ماں کے پیٹ میں رزق دیا وہی اب بھی مجھے رزق عطا فرماتا ہے۔ ‘‘ 
میں نے پوچھا: ’’ تمہارے کھانے کا اِنتظام کس طر ح ہوتا ہے؟  ‘‘ کہا : ’’ میں جہاں بھی ہوں مجھے وقت پر کھانا مل جاتا ہے،  میرا ربّ میری حاجت کوخوب جانتا ہے ، وہ میرے حالات سے با خبر اور میرا حافظ و والی ہے۔  ‘‘ میں نے کہا :  ’’ تمہیں مجھ سے کوئی حاجت ہے۔ ‘‘ کہا :  ’’ ہاں ! اگر دوبارہ مجھے دیکھوتو مجھ سے گفتگو نہ کرنا اور نہ ہی میرے بارے میں کسی کو کچھ بتانا۔ ‘‘ میں نے کہا:  ’’ جیسے تمہاری مرضی،  اِس کے علاوہ کوئی اورحاجت ہو توبتاؤ؟  ‘‘ کہا :  ’’ ہو سکے توغم و پریشانی کی حالت میں مجھے دعامیں یاد رکھنا ۔ ‘‘ 
میں نے کہا:  ’’ میرے بیٹے!تم مجھ سے افضل ہو،  تم میں خوفِ خدا وتوکل مجھ سے زیادہ ہے۔  ‘‘ کہا:  ’’ یوں نہ کہیے! بلکہ آپ عمر میں مجھ سے بڑے ہیں ،  آپ کی نماز یں اور روزے مجھ سے زیادہ ہوں گے۔ ‘‘ میں نے کہا:  ’’ مجھے تم سے کام ہے؟  ‘‘  کہا:  ’’ بتائیے! ‘‘  میں نے کہا:  ’’ میرے لیے دعا کرو! ‘‘ چنانچہ اُس نے یوں دعا کی: ”اللہ عَزَّ  وَجَلَّآپ کو ہر لمحہ گناہوں سے محفوظ رکھے،  ایسا غم عطا فرمائے جس میں اُس کی رضا پوشیدہ ہو،  اِس کے علاوہ کوئی او ر غم آپ کو نہ ملے۔ ‘‘  میں نے کہا:  ’’ اب دوبارہ کب ملاقات ہوگی؟  ‘‘  کہا:  ’’ دنیا میں مجھ سے ملاقات کی اُمید نہ رکھنا اور آخرت میں مجھ سے ملنا چاہو تو اَحکَامِ خداوندی بجا لانا،  جن اُمور سے اُس نے بچنے کا حکم دیا ہے اُن سے ہمیشہ بچنا ، آخرت پرہیز گاروں کے جمع ہونے کی جگہ ہے ،  میں وہاں اُن لوگوں میں ملوں گا جو دیدارِ الٰہی میں مشغول ہوں گے۔ ‘‘  میں نے کہا: ’’ تمہیں یہ کیسے معلوم ہواکہ تمہیں یہ مقام حاصل ہوگا؟  ‘‘  کہا: ’’ اِس ‏لیے کہ میں ممنوعاتِ شرعِیَّہ سے بچتا ہوں اور میں دُعا کرتا ہوں کہ اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ مجھے جنت میں اپنے دیدار کی دولتِ عُظمیٰ سے سرفراز فرمانا۔ ‘‘  اتناکہنے کے بعد اُس نوجوان نے چیخ ماری اور میری نظروں