ہوئے اٹھیں گے۔ اللہ تعالٰی زندگی میں اچھا شغل عطا کرے اسی پر موت دے۔ ‘‘ (1) آمین
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللہ عَزَّ وَجَلَّجس سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے موت سے پہلے نیک اعمال کی توفیق دے کر ان پراستقامت عطا فرما دیتا ہے۔پھراسی حالت میں ا سے موت آجاتی ہے اورجس سے بُرائی کا ارادہ فرماتا ہے تو وہ مرنے سے پہلے راہ راست سے ہٹ جاتا ہے اور پھر اسی حالت میں مر جاتا ہے۔چنانچہ اس ضمن میں ایک حدیثِ مبارکہ اور دو عبرتناک واقعات ملاحظہ فرمائیے:
موت سے ایک سال پہلے:
اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائِشہ صِدّیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے مروی ہے کہ جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کسی کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے مرنے سے ایک سال پہلے ایک فِرِشتہ مقرَّر فرما دیتا ہے جو اُسے راہِ راست پر لگاتا رہتا ہے۔پھر جب اس خوش نصیب کی موت قریب آجاتی ہے تو جان نکلنے میں جلدی کرتی ہے۔ اُس وقت وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّسے ملاقات کوپسند کرتا ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی ملاقات کو پسند کرتا ہے ۔اور جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کسی کے ساتھ بُرائی کا ارادہ کرتا ہے تو مرنے سے ایک سال قبل ایک شیطان اُس پر مُسلَّط کر دیتا ہے جو اُسے بہکا تا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ بدترین حالت میں مرتا ہے ۔پھرجب موت آتی ہے تو اُس کی جان اٹکنے لگتی ہے۔اس وقت یہ شخص اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ملنے کو پسند نہیں کرتا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے ملنے کو پسند نہیں فرماتا ۔ ‘‘ (2)
شیطان کا خطرناک جال:
حضرتِ سَیِّدُنَااما م ابومحمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ تین زاہد حج کےاِرادے سےبیتُ اللہ شریف کی جانب روانہ ہوئے۔ راستے میں عیسائیوں کی ایک بستی کے قریب قیام ہو ا۔ وہاں ایک زاہد کی نظر ایک عیسائی عورت پر پڑی تو دل اس طرف مائل ہوگیا۔ جب سفرکا وقت آیا تو اس نے حیلے بہانے سے اپنے
________________________________
1 - مرآۃالمناجیح،۷ / ۱۵۳۔
2 - مصنف عبد الرزاق، کتاب الجنائز، باب فتنۃ القبر، ۳ / ۳۹۳، حدیث: ۶۷۷۸۔