Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
308 - 662
 ’’ جس کا آخری کلام لَااِلٰہَ اِلَّااللہُ ہو  گاوہ جنت میں جائے گا۔ ‘‘  (1) 
جس حالت پر موت،  اُسی پر اُٹھایا جانا:
علاّمہ عبد الرؤف مَناوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ ہر شخص  اسی حالت پر اُٹھا یا جائے گا جس  پر وہ  مرا۔یعنی اچھی یا  بری جس حالت پر آدمی مرے گا اسی حالت میں اُٹھایا جائے گا ۔ باگاہِ رسالت میں عرض کی گئی: ’’ یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم! مجھے جہاداور غزوہ کے بارے میں بتائیے؟  ‘‘  ارشاد فرمایا:  ’’ اگر تم اس حال میں قتل کیے جاؤکہ تم  صبر کرنے والےاور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ پر بھروسہ کرنے والے ہو تو تمہیں صابر ومُتَوَکِّل اٹھا یا جائے گا۔اوراگر اس حال میں قتل کیے جاؤ کہ تم ریا کارومتکبر ہوتو تمہیں ریا کارومتکبر اٹھا یا جائے گا ، الغرض جس حالت پر  مروگے اسی حالت میں اٹھائے جاؤ گے۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَا انَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ   ’’ جو نشے کی حالت میں مرے گا تو حضر ت  سَیِّدُنَا مَلَکُ الموت عَلَیْہِ السَّلَام کی تشریف آوری کے وقت  اس پر نشے کی کیفیت طاری ہو گی۔ جب منکر نکیر آئیں گے  تب بھی نشے میں ہوگا اور بروزِ قیامت نشے کی حالت میں ہی اٹھایا جائے گا۔پھر اسی حالت میں   جہنم کے درمیان ’’ سُکران ‘‘  نامی  ایک خندق میں  پھینک دیا جائے گا۔ ‘‘  (2) 
آخری حالت کا اعتبار ہے:
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں :  ’’ اعتبار خاتمےکا ہے ۔اگر کوئی کفر پر مرے تو کفر پر ہی اٹھے گا اگرچہ زندگی میں مؤمن رہا ہو اوراگر ایمان پر مرے تو ایمان پر اٹھے گا اگرچہ زندگی میں کافر رہا ہو۔ صوفیاء فرماتے ہیں کہ انسان جو مشغلہ زندگی میں کرے گا اسی پر  اِنْ شَآءَ اللہ مرے گااور جس پر مرے گا اُسی پر اٹھے گا۔اِنْ شَآءَ اللہ ذاکرین ذکر الٰہی کرتے ہوئے اٹھیں گے،  شاغلین یار کے شغل میں ،  واصلین وصال میں ،  کاملین کمال میں حتی کہ بلال اذان دیتے 



________________________________
1 -   ابوداود،کتاب الجنائز، باب فی التلقین،۳‏ / ۲۵۵،حدیث: ۳۱۱۶۔
2 -   فیض القدیر،حرف الیاء،۶‏ /  ۵۹۱،۵۹۲ ،حدیث: ۹۹۹۴۔