Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
307 - 662
حدیث نمبر:116 	               
     زندگی کے آخری لمحات کی  اَہمیَّت
عَنْ جَابِرٍ رَضِیِ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: یُبْعَثُ کُلُّ عَبْدٍ عَلٰی مَا مَاتَ عَلَیْہِ. (1)  
ترجمہ :حضرت سَیِّدُنَا جابررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہ حضور تاجدارِ رسالت شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ ہر شخص  اُسی حالت پر اُٹھا یا جائے گا جس  پر  وہ  مرا ۔ ‘‘ 
آخری حالت پر اٹھایا جائے گا:
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ ہر شخص  اُسی حالت پر اُٹھا یا جائے گا جس  پر وہ  مرا۔یہا ں تک کہ بانسری بجانے والا اِس حالت میں اٹھایا جائےگا کہ اُس کے ہاتھ میں بانسری  ہوگی۔حدیث  مذکور میں اِنسان کو  اَعمالِ صالحہ کی پابندی ،  تمام اَحوال میں سنتِ  رسول کی پیروی اور تمام اَفعال واَقوال میں اِخلاص  کو مدّنظر  رکھنے پر اُبھارا گیاہے، تاکہ اچھی حالت میں موت  آئے اور  بروزِ قیامت  اچھی حالت میں اٹھا یا جائے۔ مصنف یعنی علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا اِس باب کو اِس حدیث پر ختم کرنا کمالِ حسن ہے کیونکہ یہ حدیث  اَعمال  صالحہ اور زندگی کے تمام اوقات میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرنے پر ابھارتی ہے کیونکہ موت کسی بھی وقت آسکتی ہےاورآخری عمر، بڑھاپے اور حالتِ مرض میں تو موت  کا اِمکان مزید بڑھ جاتا ہے ۔ ‘‘  (2) 
آخری کلام جنت میں داخلے کا سبب:
میٹھےمیٹھےاسلامی بھائیو!حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاس حدیث پاک میں فرمایاکہ جس حالت میں انسان مرے گااسی حالت میں قیامت والے دن اٹھایا جائے گا۔اس حدیث کی شرح سنن ابو داود کی اس حدیث مبارکہ سے بھی ہوتی ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:



________________________________
1 -   مسلم ، کتاب الجنۃ،باب الامر بحسن الظن باللہ تعالی عند الموت،ص۱۵۳۸،حدیث: ۲۸۷۸۔
2 -   دلیل الفالحین، باب فی الحث علی الازیاد من الخیر، ۱‏ / ۳۴۶،تحت الحدیث: ۱۱۶۔