کثرت سے وحی نازل ہونے کی وجہ:
علامہ ابن حجر عسقلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ کے وصال کے زمانے میں نزولِ وحی کا سلسلہ بڑھادیا۔اس میں جو راز پوشیدہ ہے وہ یہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد کثرت سے مختلف قبیلوں سے وفود آنا شروع ہوگئے تھے اور وہ لوگ اَحکامِ شریعت کے بارے میں بہت سےسوالات کرتے تھے اس لیے اللہ عَزَّ وَجَلَّنے کثرت سے وحی نازل فرمائی۔ ‘‘ (1)
دلیل الفالحین میں ہے: ’’ تمام عالَم کے دُنیوی اور اُخروی نظام سے متعلق جواَحکام نازل ہونے تھے جب وہ نازل ہو گئے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّنے یہ آیت مبارَکہ نازل فرمائی: (اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ ) (پ۶، المائدۃ: ۳) (ترجمہ ٔ کنزالایمان: آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کردیا۔ ) اس کے چند ماہ بعد ہی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدنیا سے ظاہری پردہ فرماگئے۔ ‘‘ (2)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیث مذکور میں بیان کیا گیا کہ سرکارِ دوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر آخری عمر میں بکثرت وحی نازل ہوئی اورآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآخری عمر میں بکثرت دین کے احکام لوگوں تک پہنچاتے رہےیہاں تک کہ آپ نے دنیا سے پردہ فرما لیا ۔ ہمیں بھی چاہیے کہ اپنی زندگی کا ہر لمحہ نیک کاموں میں صَرف کریں ۔ ہمیں اپنی موت کا علم نہیں کیا خبر آج اور ابھی موت آجائے اور پھر نیکیاں کرنے کا موقع ہی نہ ملے ۔اسی لیے جو وقت مل رہا ہے اسے غنیمت جانتے ہوئے خوب خوب نیکیوں کی کثرت کرنی چاہیے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں اپنی حفظ وامان میں رکھے اور مرتے دم تک نیک اعمال کی توفیق عطا فرمائے، ہمارا خاتمہ ایمان پر فرمائے۔آمین
مٹادے ساری خطائیں مری مٹا یاربّ………بنا دے نیک بنا نیک دے بنا یاربّ
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
________________________________
1 - فتح الباری، کتاب فضائل القران ، باب کیف نزول الوحی واول ما نزل ، ۱۰ / ۷، تحت الحدیث: ۴۹۸۲۔
2 - دلیل الفالحین،باب فی الحث علی الازدیاد من الخیر ، ۱ / ۳۴۶، تحت الحدیث: ۱۱۵۔