مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہیں ۔
(1) بڑھاپے میں مزید عمر کی امید نہیں ہوتی۔لہٰذااب انسان کو استغفار کی کثرت کرنی چاہیے کہ اب موت بالکل قریب ہے۔
(2) نماز میں پڑھے جانے والے اَذکار اُن اَذکار سے افضل ہیں جو نماز کے علاوہ ہوں ۔
(3) حضور سید عالَم نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصالِ ظاہری سے پہلے اِسلام اکثر خطۂ عرب میں پہنچ چکا تھا ۔ لوگ دور دراز سے فوج در فوج آکر دائرۂ اسلام میں داخل ہونے لگے تھے۔
(4) اُمہات المؤمنین اور دیگر صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنحضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شب و روز کی عبادت کوپیش نظر رکھتے۔ جب بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو کوئی نیا عمل کرتے ہوئے پاتے، اس کےمتعلق ضرور پوچھتے اور پھر اس پر عمل پیرا ہونے کی حتی الامکان کوشش کرتے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں کثرت سے استغفار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:115
آخری عُمر میں وحی کی کثرت
عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: اِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ تَابَعَ الْوَحْیَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَبْلَ وَفَاتِہِ حَتّٰی تُوُفِّیَ وَاَکْثَرُ مَا کَانَ الْوَحْیُ. (1) (یَوْمَ تُوُفیِّ َرَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ)
ترجمہ :حضرت سَیِّدُنَا اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّنےرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےوصال سے پہلے آپ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم پرلگاتار وحی نازل فرمائی یہاں تک کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وصال ہوگیا اور جس دن آپ کا وصال ہوا اس دن بہت مرتبہ وحی نازل ہوئی تھی۔ ‘‘
________________________________
1 - مسلم ، کتاب التفسیر،ص۱۶۰۸،حدیث: ۳۰۱۶۔