Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
302 - 662
تسبیح و تحمید کی برکتیں :
حضرت سَیِّدُنا نعمان بن بشیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ خاتمُ الْمُرْسَلین،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمین،  جنابِ صادق و امین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”بے شک!اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے جلال کو یاد کرنے کے ‏لیے  تم جوتسبیح (سُبْحَانَ اللہِ) وتہلیل (لَا اِلٰہَ اِلَّااللہُ) اور تحمید (اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ)  کرتے ہو  وہ  عرش  کے گرد گھومتی ہیں ،  ان کی آواز شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی طر ح ہوتی ہے اوریہ اپنے پڑھنے والوں کا تذکرہ کرتی  ہیں ۔“ (پھر فرمایا:)  ’’ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ تمہارا تذکرہ ہمیشہ ہوتا رہے ؟ “ (1) 
اُحُد پہاڑ کے برابر عمل:
 حضرتِ سَیِّدُنا عمران بن حَصِینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ سَیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:  ’’ کیا تم میں سے کوئی روزانہ اُحُد پہاڑ کے برابر عمل کرنے کی طاقت رکھتا ہے؟   ‘‘ صحابۂ  کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی: ’’ یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! روزانہ اُحد پہاڑ کے برابر عمل کرنے کی طاقت کون رکھ سکتاہے؟  ‘‘ فرمایا: ’’ تم میں سے ہر ایک اس کی طاقت رکھتا ہے۔ ‘‘  عرض کی: ’’ وہ کیسے؟  ‘‘ فرمایا: ’’ سُبْحَانَ ﷲ،  لَااِلٰہ اِلَّاﷲ، اَلْحَمْدُلِلّٰہِ اوراَللہُ اَکْبَرُکہنا اُحُد پہاڑسے زیاد ہ عظمت والا ہے۔ ‘‘  (2)  
روزانہ ایک ہزار1000 نیکیاں :
حضرتِ سَیِّدُنا مُصْعَب بن سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضورنبی کریم،  رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے  ارشادفرمایا:  ’’ کیا تم میں سے کوئی رو زانہ ایک ہزار نیکیا ں کرنے  سے عا جز ہے؟  ‘‘  ایک شخص نے عرض کی: ’’  کوئی ایک ہزار نیکیا ں کیسے کما سکتا ہے؟  ‘‘  فرمایا:  ’’ اگروہ سو مرتبہ



________________________________
1 -   ابن ماجۃ، کتا ب الادب، باب فضل التسبیح، ۴‏ /  ۲۵۳، حدیث:  ۳۸۰۹۔
2 -   معجم کبیر ، عبید بن مھران عن الحسن، ۱۸‏ /  ۱۷۴، حدیث:  ۳۹۸۔