تسبیح و تحمید کی برکتیں :
حضرت سَیِّدُنا نعمان بن بشیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ خاتمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمین، جنابِ صادق و امین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”بے شک!اللہ عَزَّ وَجَلَّکے جلال کو یاد کرنے کے لیے تم جوتسبیح (سُبْحَانَ اللہِ) وتہلیل (لَا اِلٰہَ اِلَّااللہُ) اور تحمید (اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ) کرتے ہو وہ عرش کے گرد گھومتی ہیں ، ان کی آواز شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی طر ح ہوتی ہے اوریہ اپنے پڑھنے والوں کا تذکرہ کرتی ہیں ۔“ (پھر فرمایا:) ’’ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ تمہارا تذکرہ ہمیشہ ہوتا رہے ؟ “ (1)
اُحُد پہاڑ کے برابر عمل:
حضرتِ سَیِّدُنا عمران بن حَصِینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ سَیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ کیا تم میں سے کوئی روزانہ اُحُد پہاڑ کے برابر عمل کرنے کی طاقت رکھتا ہے؟ ‘‘ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی: ’’ یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! روزانہ اُحد پہاڑ کے برابر عمل کرنے کی طاقت کون رکھ سکتاہے؟ ‘‘ فرمایا: ’’ تم میں سے ہر ایک اس کی طاقت رکھتا ہے۔ ‘‘ عرض کی: ’’ وہ کیسے؟ ‘‘ فرمایا: ’’ سُبْحَانَ ﷲ، لَااِلٰہ اِلَّاﷲ، اَلْحَمْدُلِلّٰہِ اوراَللہُ اَکْبَرُکہنا اُحُد پہاڑسے زیاد ہ عظمت والا ہے۔ ‘‘ (2)
روزانہ ایک ہزار1000 نیکیاں :
حضرتِ سَیِّدُنا مُصْعَب بن سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضورنبی کریم، رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ کیا تم میں سے کوئی رو زانہ ایک ہزار نیکیا ں کرنے سے عا جز ہے؟ ‘‘ ایک شخص نے عرض کی: ’’ کوئی ایک ہزار نیکیا ں کیسے کما سکتا ہے؟ ‘‘ فرمایا: ’’ اگروہ سو مرتبہ
________________________________
1 - ابن ماجۃ، کتا ب الادب، باب فضل التسبیح، ۴ / ۲۵۳، حدیث: ۳۸۰۹۔
2 - معجم کبیر ، عبید بن مھران عن الحسن، ۱۸ / ۱۷۴، حدیث: ۳۹۸۔