اور بارگاہِ خداوندی میں عاجزی وانکساری کے لیے تھا۔ ‘‘ (1)
مرآۃ المناجیح میں ہے: ’’ حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کا اپنے لیے دعائے بخشش کرنا تعلیم ِاُمَّت کے لیے تھا، یا اس لیے کہ اِسْتِغْفَاربھی عبادت ہے اور بلندی درجات کا ذریعہ۔ورنہ آپ گناہوں سے معصوم ہیں ۔ ‘‘ (2)
دلیل الفالحین میں ہے: ’’ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْیعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میری مغفرت فرما۔ ‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ میرے اعلیٰ مقام و مرتبہ کے اعتبار سے جو کام خلافِ اَولیٰ ہیں ، انہیں معاف فرما ، اگر چہ حقیقت میں وہ گناہ نہیں ۔ کیونکہ انبیائے کرام گناہوں سے مطلقاً پاک ہیں ۔ ‘‘ (3)
نوٹ:سرکارِ دوعالم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اِسْتِغْفَارفرمانے کی مزید توجیہات جاننے کے لیے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۶۵۶صفحات پر مشتمل کتاب ’’ فیضان ریاضُ الصَّالحین“ جلد اول صفحہ 167کا مطالعہ فرمائیے۔
موت پر تنبیہ:
تفسیرِکبیر میں ہے: ’’ جب کسی مسافر کی روانگی کا وقت قریب آتاہے تو وہ اپنے سفر کی تیاری کرتاہے ۔ اس آیت میں تنبیہ کی گئی ہے کہ جب عقل مند شخص کی موت کا وقت قریب آتا ہےتو وہ کثرت سے توبہ کرتاہے۔ ‘‘ (4)
تسبیح واستغفار سے متعلق چند احادیث:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! چونکہ اس حدیث پاک میں تسبیح و استغفار کا بیان ہے اس لیے ان سے متعلق چند احادیث ِمبارکہ ملاحظہ فرمائیے۔
________________________________
1 - شرح مسلم للنووی،کتاب الصلاۃ، باب ما یقال فی الرکوع والسجود، ۲ / ۲۰۲، الجزء الرابع ۔
2 - مرآۃ المناجیح، ۲ / ۷۰۔
3 - دلیل الفالحین، باب فی الحث علی الازیادمن الخیر، ۱ / ۳۴۳، تحت الحدیث: ۱۱۴۔
4 - تفسیر کبیر، پ۳۰، النصر ، تحت الایۃ: ۳ ،۱۱ / ۳۴۶۔