فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُﳳ-اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۠ (۳) فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُﳳ-اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۠ (۳) (پ۳۰، سورۃ النصر)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: جب اللہ کی مدد اور فتح آئے اور لوگوں کو تم دیکھو کہ اللہ کے دین میں فوج فوج داخل ہوتے ہیں تو اپنے ربّ کی ثنا کرتے ہوئے اس کی پاکی بولو اور اس سے بخشش چاہو بے شک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔
رکوع و سجود میں دعائیں :
عمدۃُالقاری میں ہے:حضورنبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حالت ِنما ز اور وہ بھی رکوع وسجود میں یہ کلمات اس لیے پڑھتے تاکہ حکم قرآنی کو اَحسن انداز سے بجا لا ئیں کیونکہ حالتِ نماز دیگر حالتوں سے افضل ہے اور رکوع وسجود میں دیگر اَرکان کی نسبت زیادہ عجزوانکساری ہے ۔ ‘‘ (1)
مِرآۃ المناجیح میں ہے: ’’ وفات شریف کے قریب جب یہ آیت کریمہ اتری: ( فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُﳳ-) تو آپ نوافل خصوصاً تہجد کے رکوع، سجدے میں یہ پڑھا کرتے تھے، ظاہر یہی ہے کہ یہ دعائیں نوافل میں تھیں ، کیونکہ حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) فرائض مسجد میں پڑھاتے تھے، اس وقت عائشہ صدیقہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا) آپ سے بہت دور ہوتی تھیں ۔ ہاں !تہجد وغیرہ نوافل گھر میں پڑھتے تھے اس لیے آپ بخوبی یہ سب کچھ سن لیتی تھیں ۔ ‘‘ (2)
حضور کےاِسْتِغْفَار فرمانے کی وجہ:
یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ تمام انبیائے کرام عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام معصوم ہیں اور اُن سے گناہ کا صدورمُتَصَوَّرنہیں ۔ تو پھرحضورِ اَکرم نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جوتمام نبیوں کے سرداراور سَیِّدُ الْمَعْصُوْمِیْن ہیں ، اِسْتِغْفَار کیوں فرماتے تھے؟ علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں : ’’ سرکارِ دوعالَم نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا اِسْتِغْفَارفرمانا اِظہارِ بندگی
________________________________
1 - عمدۃ القاری، کتاب الصلوۃ، باب الدعا فی الرکوع، ۴ / ۵۲۷، تحت الحدیث: ۷۹۴۔
2 - مرآۃ المناجیح،۲ / ۷۰۔