Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
30 - 662
مطلب گمراہ کرنا  ہے۔ بلکہ یہ ضَلَّ سے متعدی ہے  جو غَابَ کے معنی میں ہے جس  کا مطلب  ہے  غائب ہونا،  پوشیدہ ہونا،  موجود نہ ہونا۔  اور اَعُوْذُبِعِزَّتِکَ اَنْ تُضِلَّنِیْ کا  معنی  ہے:  ’’ میں پناہ چاہتا ہوں  اس بات سے کہ  تو مجھے  اپنی بارگاہ میں  حاضری  سے لمحہ  بھر کے ‏لیے بھی دور کرے۔‘‘  (1) 
توکل کی حقیقت:
حُجَّۃُ الْاِسْلَامحضرتِ سَیِّدُنا امام محمد بن محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیتوکل کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ توکل ایک دِلی حالت کا نام ہے اوریہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو ایک ماننے اور اُس کے فضل وکرم پر اِیمان لانے سے حاصل ہوتی ہے ۔ توکل کا معنی یہ ہے کہ دل اپنے پروردگارپر اِعتماد کرے اور اُس سے مطمئن رہے۔اپنی روزی کے بارے میں بلاوجہ فکر مند نہ ہو اور اَسبابِ ظاہری میں خلل پڑنے سے مایوس و پریشان نہ ہو بلکہ خالق ِحقیقی پر بھروسہ رکھے کہ وہی رزق دینے والا ہے ۔ ‘‘  (2) 
پیرانِ پیر،  روشن ضمیر،  حضرتِ سَیِّدُنا شیخ عبد القادر جیلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے پوچھا گیا کہ توکل کیا ہے؟  فرمایا:  ’’ توکل یہ ہے کہ دل صرف اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی طرف مشغول ہو اور اس کے غیر پر بھروسہ نہ کرے بلکہ دھیان بھی نہ دے اور اُس کے سِوا ہر چیزسے بے نیاز ہوجائے۔  ‘‘  (3) 
معرفت الٰہی رکھنے والا نوجوان:
حضرتِ سَیِّدُنا ابراہیم بن مُہَلَّب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں نے جنگل میں ایک نوجوان کو نماز پڑھتے دیکھا۔ جب وہ فارغ ہوا تو میں نے کہا : ’’ اِس ویرانے میں تمہارا کوئی مُوْنِس وغمخوار بھی ہے؟  ‘‘  کہا:  ’’ ہاں ! ہے ۔ ‘‘ میں نے کہا:  ’’ کہا ں ہے؟  ‘‘  کہا : ’’ میرے دائیں بائیں ،  اوپر نیچے ، آگے پیچھے ہر طر ف ۔ ‘‘ یہ سن کر میں سمجھ گیا کہ یہ عارِفین میں سے ہے۔میں نے کہا: ’’ تمہارا زادِ راہ کیا ہے؟   ‘‘ کہا: ’’ توحید و رسالت کا اِقرار،  اِخلاص، اِیمانِ صادِق اور پختہ تَوکُّل۔ ‘‘  میں نے کہا: ’’  میرے بیٹے! کیا تم میرے ساتھ رہنا پسند کرو گے ؟  ‘‘ کہا: 



________________________________
1 -      مرقاۃ المفاتیح ،کتاب الدعوات،باب الاستعاذۃ، ۵‏ / ۳۱۹، ۳۲۰، تحت الحدیث: ۲۴۶۳ملخصا۔
2 -       کیمیائے سعادت ، ۲‏ / ۹۳۱۔
3 -        بہجۃ الاسرار، ص۲۳۲ماخوذا۔