Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
296 - 662
 سَیِّدُنَا جبریل عَلَیْہِ السَّلَامنے آپ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمسے عرض  کی: ’’ بے شک یہ  (ابن عباس)  اِس اُمَّت کے حِبْر ( یعنی بڑے عالم ) ہوں گے۔آپ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمانہیں خیر وبھلائی کی وصیت  فرمائیے۔ ‘‘  (1) 
 (4)  علم میں برکت  کی دعا:
حضرتِ سَیِّدُنا ابن عمررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سےمروی  ہے کہ ایک مرتبہ دوعالم کے مختار مکی مدنی سرکار صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے حضرت ابن عباسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے‏لیے یوں دعا فرمائی: ’’ یااللہعَزَّ  وَجَلَّ! اس کے علم میں برکت عطا فرما اور اس  سے علم پھیلا۔ ‘‘  (2)  
 (5) دستِ شفقت کی برکتیں :
 ایک مرتبہ شہنشاہِ مدینہ،  قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن عباسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے سرپر دستِ شفقت رکھ کر یوں دعاکی: ’’ یااللہعَزَّ  وَجَلَّ!اسےعلم وحکمت عطا فرمااور تاویل کے علم سے نواز ۔ ‘‘  پھر آپ  صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم نے اپنا دست اَقدس اُن کے سینے پر رکھا جس کی ٹھنڈک آپ  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی پشت میں محسوس کی ، پھر فرمایا: ’’ یااللہعَزَّ  وَجَلَّ!  علم وحکمت سے اس کا سینہ بھر دے۔ ‘‘  اِس دعا کے بعدانہیں لوگوں کے کسی مسئلے میں گھبراہٹ محسوس نہ ہوئی۔جب تک حیات رہے اِس اُمَّت کے سب سے بڑے عالم رہے۔ (3)  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین
لَا وَرَبِّ الْعَرْش جس کو جو ملا ان سے ملا
بٹتی ہے کونین میں نعمت رسول اللہ کی
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد



________________________________
1 -   حلیۃالاولیاء، عبد اللہ بن عباس ،۱‏ / ۳۹۱۔
2 -   حلیۃالاولیاء ، عبد اللہ بن عباس،۱‏ / ۳۹۰۔
3 -   معجم کبیر، من مناقب عبد اللہ بن عباس، ۱۰‏ /  ۲۳۷، حدیث: ۱۰۵۸۵۔