جب انہیں قبر میں اتارا گیاتو ہاتفِ غیبی سے یہ آواز آئی:
یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىٕنَّةُۗۖ (۲۷) ارْجِعِیْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةًۚ (۲۸) فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْۙ (۲۹) وَ ادْخُلِیْ جَنَّتِیْ۠ (۳۰) (پ ۳۰، الفجر:۲۷ تا ۳۰ )
ترجمہ ٔ کنزالایمان: اے اطمینان والی جان اپنے ربّ کی طرف واپس ہو یوں کہ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی پھر میرے خاص بندوں میں داخل ہواور میری جنت میں آ۔ (1)
(1) علم و حکمت کی دعا:
حضرتِ سَیِّدُنا ابن عباسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم نے مجھے اپنے سینے سے چمٹا یا اور پھر دعا کی: ’’ یا اللہعَزَّ وَجَلَّ! اسےعلم وحکمت عطا فرما ۔ ‘‘ (2)
(2) رسول اللہ کی خدمت گزاری:
حضرتِ سَیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ مکی مدنی آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے تو میں نے آپ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکےلیے وضو کا پانی رکھ دیا۔ واپسی پرآپ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم نے پوچھا کہ ’’ یہ پانی کس نے رکھا ہے؟ ‘‘ بتایا گیا کہ ابن عباسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے۔تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے میرے لیے دعا کی : ’’ اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ! اسے دین کا فقیہ بنادے۔ ‘‘ (3)
(3) اُمَّت محمدیہ کے بڑے عالم:
حضرتِ سَیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکی بارگاہ ِاقدس میں حاضر ہوا ، سَیِّدُنَاجبریلِ امین عَلَیْہِ السَّلَامبھی حاضر خدمت تھے۔
________________________________
1 - تفسیر روح البیان،پ۳۰ ،الفجر، تحت الآیۃ: ۲۷،۱۰ / ۴۳۲۔
2 - بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم، باب ذکر ابن عباس رضی اللہ عنہ، ۲ / ۵۴۸، حدیث: ۳۷۵۶۔
3 - بخاری، کتاب الوضو، باب وضع الماء عند الخلاء، ۱ / ۷۳، حدیث: ۱۴۳۔