ہمارے بیٹے ہیں ۔ ‘‘ (1)
سَیِّدُنَاعبد اللہ بن عباس کی فضیلت:
فتح الباری میں ہے: ’’ اس حدیث پاک سے حضرت سَیِّدُنَاابن عباسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی فضیلت اوراِس دعائے مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ظہور ہوتا ہےکہ: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّابن عباس کو تاویل کا علم اور دین میں سمجھ بوجھ عطا فرمائے۔“یہ بھی معلوم ہوا کہ اپنے اوپر نعمتِ الٰہی کےاِظہار اور ناواقف لوگوں کو بتانے اور دیگر نیک مقاصد کے لیےاپنی تعریف کرنا جائز ہے۔ ہاں !فخر کرنے کےلیے جائز نہیں ۔ ‘‘ (2)
اِس اُمَّت کے بہت بڑے عالم:
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’ حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا ہجرت سے تین سال پہلے پیدا ہوئے، حضور نبی اکرم نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکے وصال مبارک کے وقت آپ کی عمر 13سال تھی۔آپ اِس اُمَّت کے بہت بڑے عالم ہیں ۔نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنےآپ کے لیے حکمت وفقہ کی دعا فرمائی تھی۔ آپ نے حضرت جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام کو دو2مرتبہ دیکھا ۔آخری عمر میں آپ نابینا ہوگئے۔ اِکہتر (71) سال عمر پائی اور۶۸ھ میں طائف میں وفات پائی ۔کثیر صحابہ وتابعین کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے آپ سے روایات لی ہیں ۔ ‘‘ (3)
بعدانتقال ملنے والا انعام واکرام:
تفسیر روح البیان میں ہے: ’’ تابعی بزرگ حضرت سَیِّدُنَا سعید بن جبیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’ حضرت سَیِّدُنَا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کاوصال طائف میں ہوا۔ مجھے بھی ان کے جنازے میں شرکت کی سعادت ملی۔ جنازے کے بعد ایک پرندہ آیا اوران کے کفن میں داخل ہواا ورواپس نہ آیا۔پھر
________________________________
1 - عمدۃ القاری، کتاب المغازی ، باب، ۱۲ / ۲۷۶، تحت الحدیث: ۴۲۹۴۔
2 - فتح الباری، کتاب التفسیر، باب سورۃ النصر،۹ / ۶۳۸، تحت الحدیث: ۴۹۷۰۔
3 - مرقاۃ المفاتیح ، کتاب المناقب والفضائل، باب مناقب اھل بیت النبی۔۔۔الخ،۱۰ / ۵۲۶، تحت الحدیث: ۶۱۴۷ملخصا۔